خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 453

خطبات طاہر جلد ۱۱ 453 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء ہیں تو دوسری طرف پیوست نہیں ہوتے۔پس ایک نادان بچے کی گوڈی کا معاملہ ہے جو اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔فرماتے ہیں ”۔۔۔اپنے خیال میں سمجھتا ہے وہ گوڈی کر رہا ہے۔یہ گمان ہرگز نہ کرو کہ عبادت خود ہی آجائے گی نہیں جب تک رسول نہ سکھلائے انقطاع الی اللہ اور تبتل تام کی راہیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔۔۔“ خود بتلایا۔پھر طبعا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام کیونکر حل ہو۔اس کا علاج اس کے بعد یہ مضمون استغفار میں داخل ہو جاتا ہے۔فرماتے ہیں۔وَانِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ (صور:۴) یا درکھو کہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے۔جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔۔۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : ۵) میں ہم خدا سے جو استعانت کرتے ہیں یہ وہی مضمون ہے فرمایا۔وو۔۔۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے اسی طرح پر روحانی مگدر استغفار ہے۔اس کے ساتھ روح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ : ۶۶۔۶۷) اس مضمون کا تعلق اپنی نفسانی خواہشات سے علیحدگی سے ہے۔اس مضمون کا تعلق ایسے انسان سے ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔اس میں ارادہ پیدا ہو چکا ہے۔اس میں خواہش بیدار ہوگئی ہے کہ میں ان تعلقات کو خدا کی خاطر اس طرح توڑ دوں کہ یہ تعلقات خدا کے