خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 405

خطبات طاہر جلدا 405 خطبہ جمعہ ۱۲ جون ۱۹۹۲ء کرتا ہے کہ اے اللہ ! کہ میری بیوی کی طرف سے مجھے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرمادہ اگر صبر نہیں کر سکتا تو یہ دعا اس کو کیا فائدہ دے گی۔جب بدصورت بیوی پر نظر پڑے گی تو اس کا دل بھڑ کے گا اور جذبات اس کے دل میں اشتعال پیدا کریں گے اور وہ کہے گا کہ یہ میں کس مصیبت میں مبتلا ہو گیا۔اب شکل تو بیوی نہیں بدل سکتی عادتیں تو کسی حد تک بدل سکتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقت پسند بنو۔زندگی میں تمہیں مکمل جنت نصیب ہو ہی نہیں سکتی لیکن اگر صبر کرو گے تو اس کے نتیجہ میں تمہارے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی اور صبر کرنے والا مشکل حالات میں بھی زیادہ سکون سے زندگی بسر کر سکتا ہے۔بعض لوگ غریب ہیں روکھی سوکھی کھاتے ہیں اور ان کے اندر بے صبری پائی جاتی ہے۔ان کے حالات جب بدلتے ہیں ناخوش ہی رہتے ہیں اچھا کھانا مل گیا تو اچھے مکان کے لئے بے چین ہو گئے۔اچھا مکان مل گیا تو اس سے بڑے محل کے لئے بے قرار ہو گئے۔ہر وقت دل میں ایک کھجلی سی رہتی ہے کہ کچھ کمی ہے جس کو ہم پورا نہیں کر سکتے اور یہ بے قراری ہمیشہ ان کو بے سکون رکھتی ہے لیکن بعض ہیں جو روکھی سوکھی بھی کھا رہے ہیں تو آپس میں اکٹھے بیٹھ کر خدا کا شکر کرتے ہوئے کھاتے ہیں اور اس کی لذت اُٹھا رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اندر صبر کا مادہ پایا جاتا ہے اور صبر کے نتیجہ میں واقعہ وہ سوکھی روٹی بھی زیادہ مزا دیتی ہے بہ نسبت اس امیر کی مرغن روٹیوں کے جو بے صبرا ہے۔تو خدا تعالیٰ نے اس دُعا کی کاشت کے جو موسم بیان فرمائے ہیں اور اس کے پھل لانے کے لئے جو شرائط بیان فرمائی ہیں اُن کا حق ادا کریں پھر دیکھیں کہ خدا کے فضل سے کیسا پاک نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔فرمایا أُولَبِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا ان کو جو بالا جنتیں نصیب ہوں گی ، دومنزلہ مکان نصیب ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دُنیا میں انہوں نے صبر سے کام لیا ہے۔جو کچھ ملا اُسی کو جنت بنالیا اور خدا کی رضا پر راضی رہے اس کے بدلے خدا تعالیٰ ان کو دوسری دنیا میں جو جنت دے گا وہ دائی ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خُلِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا وہ ہمیشہ ہمیش اس جنت میں رہیں گے۔حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا ان کا مستقر بھی اچھا اور مقام بھی اچھا یہاں حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا میں میرے نزدیک مُسْتَقَر سے مراد دنیا کی زندگی کا تجربہ ہے اور مُقَامًا سے وہ آخری دائی قیام گاہ ہے جو جنت میں نصیب ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو دنیا میں