خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 404
خطبات طاہر جلد ۱۱ 404 خطبہ جمعہ ۱۲ جون ۱۹۹۲ء جزا ہی نہیں بلکہ آخری دنیا کی جزا بھی ہے فرمایا اُو بِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جنت میں دہری منزلوں والے بلند و بالا مکان عطا کئے جائیں گے۔جیسا کہ میں نے ایک دفعہ پہلے بیان کیا تھا کہ ان کی جنت کی ایک منزل دنیا میں بن جاتی ہے یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ جنت میں واقعی دو منزلہ مکان ہوں گے یہ قرآن کریم کا حسن بیان ہے یہ بتانے کے لئے کہ خدا کی رضا کا ایک گھر تمہیں پہلے اس دنیا میں مل چکا ہو گا، جنت میں اس سے بالا مکان ملے گا اس کے اوپر اللہ کی رضا کی ایک اور منزل تیار ہوگی۔فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کو دہرے فائدے ہیں اس دنیا کی جنت بھی پا جائیں گے اور اُس دنیا کی جنت بھی نصیب ہوگی جو اس دنیا کی جنت سے بالا تر ہوگی بلند تر ہوگی۔اس دنیا کی جنت سے انہوں نے نکالے جانا ہے، ہر انسان نے آخر نکالے جانا ہے۔پس فرماتا ہے أُولَبِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا ہے۔یہ جو صبر والی دوسری بات ہے یہ بھی عائلی زندگی کو بہتر بنانے والوں کو یاد رکھنی چاہئے۔دُعائیں کریں اور دیانتداری کے ساتھ کوشش کریں کہ حالات بہتر ہوں۔ایک دوسرے کی کمزوریوں سے در گزر کریں اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں اس کے باوجود پھر بھی صبر کی ضرورت ہوگی کیونکہ بعض عادتیں انسانوں میں اس حد تک داخل ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں ، بعض مردوں کو بعض عورتوں کی بعض عادتیں پسند نہیں بعض عورتوں کو بھی بعض مردوں کی بعض عادتیں پسند نہیں ہوتیں اور وہ لوگ جو صبر کرنے والے نہ ہوں وہ ہمیشہ ان عادتوں کو اچھالتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو بار بار تنگ کرتے رہتے ہیں اور طعنے دیتے رہتے ہیں اور وہ چند معمولی عادتیں ہیں جو ان کی زندگی کو جہنم کا نمونہ بنادیتی ہیں۔ایسی حرکتیں کرنے والے لوگ اور ایسے کمینے خیالات والے لوگ جو ایک دوسرے کی معمولی سی کمزوری سے بھی درگزر نہیں کر سکتے۔وہ دعا بھی کریں گے تو ان کو فائدہ نہیں دے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں صبر کا مادہ نہیں ہوتا جنت ان کو ملے گی جو ساتھ صبر کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔سب کچھ کرنے کے بعد ، کوششوں کے بعد ، دعاؤں کے بعد پھر بھی دیکھیں گے مثلاً عورتیں دیکھیں گی کہ بے چارے مردوں کی بعض کمزوریاں ہیں جو دور نہیں ہو رہیں تو وہ صبر کے ساتھ ان سے گزارہ کریں گی۔مرد دیکھیں گے کہ بعض بیویوں کی کمزوریاں ہیں جو دور نہیں ہور ہیں بعض ان کے اختیار میں ہی نہیں ہوتیں۔مثلا شکل وصورت سے لازماً وہ شخص جو دُعا