خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد ۱۱ 400 خطبه جمعه ۱۲ جون ۱۹۹۲ء ہوئی ہے سارے گھر والوں کے لئے عذاب بن گئی ہے۔اب ایسا خاندان اگر یہ دعائیں کرے گا کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنِ اے خدا! ہماری بیویوں سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، ہمارے خاوندوں سے ٹھنڈک عطا فرما، ہماری اولادوں سے ٹھنڈک عطا فرما تو عملاً وہ جنت مانگ رہے ہیں لیکن انکے عمل جہنم مانگ رہے ہیں زبان جنت مانگے گی تو خدا زبان کی بات نہیں مانے گا عمل کی بات سنے گا اور جیسا کہ قرآن کریم نے اس بات پر خوب اچھی طرح روشنی ڈال دی ہے کہ جو نیتوں کا پھل ہے وہ ان کو ملے گا اور اعمال کے نتیجے ظاہر ہوں گے۔ایسے لوگوں کو قُرَّةَ أَعْيُنِ کی بجائے آنکھوں کا عذاب نصیب ہوگا اور آج اگر انہوں نے کسی کو دھوکا دے بھی دیا تو کل دنیا ان کو دھو کے دے گی کیونکہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ یہ دھو کے الٹا کرتے ہیں آگے بدنسلیں پیدا ہوں گی کئی قسم کے بہت سے عذاب ہیں جو یہ لوگ مستقبل کے لئے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔بعض ایسے لوگ ہیں جو اپنے مطلب کے لئے شادیاں کرتے ہیں ، ایسے مرد بھی ہیں صرف عورتوں کا قصور نہیں۔ایسے مرد ہیں جو مثلاً انگلستان ، جرمنی یا دوسرے ملکوں میں آتے ہیں اور پناہ ڈھونڈتے ہیں یا کوئی اور بہانے تلاش کرتے ہیں کہ انہیں یہاں Nationality مل جائے مگر ان کی کوئی پیش نہیں جاتی پھر وہ ترکیب سوچتے ہیں کہ شادی کی جائے اور بعض دفعہ ایسی جگہ شادی کرتے ہیں جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ اگلے بھی مجبور ہیں بعض بچیوں کی شکلیں خراب ہوتی ہیں۔بعض کی عمریں زیادہ ہو رہی ہوتی ہیں اور وہ اٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔بیچارے ماں باپ بڑی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں۔وہ بھی ایسی صورت میں شادی کر دیتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ اس وقت اگر وہ غور کریں تو ان کو دکھائی دے سکتا ہے کہ یہ لڑکا مطلب پرست ہے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے شادی کر رہا ہے۔اس وقت جان کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ایک چیز ایک معمولی عقل والے انسان کو دکھائی دینی چاہئے لیکن وہ نہیں دیکھتے اور لڑ کا بھی بدنیتی اور بدبختی سے کچھ دیر کے بعد جب اس کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو ان کی بیٹی کو طعنے دینے لگتا ہے کہ تو بدصورت ہے، تو ایسی خبیث ہے، تو ایسی ہے کہ تجھ سے اور کس نے شادی کرنی تھی وہ کہتی ہے کہ پھر مجھ سے تو نے کیوں کی، میں ویسی ہی ہوں جیسی تم لے کر آئے تھے پہلے تو نے مجھے دیکھا تھا اگر یہ بدیاں ایسی ہیں جن سے تمہاری زندگی کا گزارہ نہیں ہو سکتا تھا تو کیوں مجھے ماں باپ کے گھر سے اکھیڑا۔تو کہتا ہے مجھے تو بہت مل سکتی تھیں اگر میں نے Asylum لینا تھا تو