خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 393

خطبات طاہر جلدا 393 خطبہ جمعہ ۵/ جون ۱۹۹۲ء کے علاوہ بھی کچھ باتیں کرنی ہوں گی۔روس اس وقت خطر ناک اقتصادی بدحالی کا شکار ہے اور باہر کی دنیا سے جو تاجر جا رہے ہیں وہ اکثر لوٹنے کی نیت سے جارہے ہیں۔میں احمدی تاجروں کو یا واقفین عارضی کو جو تاجر نہ بھی ہوں دعوت دیتا ہوں کہ اگر وہ وہاں جا کر کچھ تجارتی رابطے قائم کر سکتے ہوں تو اس کے کئی فوائد ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ جو سفر خالصہ دین کے لئے اختیار کیا گیا ہوا گر اس کے نتیجہ میں دنیا بھی حاصل ہو جائے جو پھر دین کی خدمت کے لئے استعمال ہو تو اس سے اچھا سودا اور کیا ہوسکتا ہے اور وہاں اس کے بہت مواقع ہیں۔جو معلومات ہمیں میسر آسکی ہیں وہ ہم نے اکٹھی کی ہیں اور تاجر ،Industrialist اور اس قسم کے دوست جو مثلا ہوٹل کا کام جانتے ہوں ان کے وہاں جا کر ذرائع معاش حاصل کرنے کے بہت مواقع ہیں اور حاصل کرنے سے زیادہ مہیا کرنے کے بہت مواقع ہیں اور مجھے اس وقت دوسرے حصہ میں زیادہ دلچسپی ہے۔اگر احمدی تاجر اس نیت سے وہاں زیادہ روابط پیدا کرے اور احمدی کارخانہ دار اس نیت سے وہاں کا رخانہ بنائے اور ریسٹوران کا تجربہ رکھنے والے احمدی اس نیت سے وہاں ریسٹوران کھولیں کہ مقامی طور پر لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر بنائی جائے تو جہاں احمدیت قائم ہو چکی ہے وہاں احمدیت کو خدا کے فضل سے بہت سی مالی سہولتیں حاصل ہو جائیں گی اور انتہائی غربت کی حالت میں بھی ان لوگوں نے چندے شروع کئے ہیں تو اگر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احمدیت سے ان کو دین کے علاوہ دنیا بھی مل جائے تو بہت بڑا استحکام حاصل ہو گا اور ان کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کی توجہ بھی پیدا ہوگی اور جب بھی آپ ایسے ملک سے تجارت کرتے ہیں جیسا روس اس دور میں ہے تو اس میں تجارت کرنے والے کے لئے نقصان کا کوئی احتمال نہیں رہتا۔کچھ نہ کچھ فائدہ اس کو ضرور پہنچے گا لیکن اگر آپ اپنے فائدہ کو پیش نظر نہ رکھیں اور دین کی خاطر ضرورت مند لوگوں کے فائدہ کو پیش نظر رکھیں تو دنیا کا فائدہ تو ہوگا ہی روحانی طور پر عاقبت کا فائدہ بہت ہوگا۔اس دنیا میں بھی آپ کی عاقبت سنور جائے گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے۔ان دونوں تحریکوں میں بھر پور حصہ لیں۔اب وقت آگیا ہے کہ جو واقفین عارضی دیر سے منتظر تھے وہ اب میدان میں جھونکنے کا لفظ میں بول رہا تھا رک گیا لیکن اب میں ان کو اس نیت سے کہتا ہوں کہ اگر یہ خدا کی خاطر بھی ہے تو ہمیں اپنی جان، مال، عزتیں واقعہ اس میں جھونک دینی چاہئیں لیکن یہ بھٹی ایسی بھٹی ہے جسے خدا تعالیٰ نے گلزار بنانے کا