خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 379

خطبات طاہر جلدا 379 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۹۲ء تھیں وہ بالکل نابود ہو چکی ہیں اور ایک لمبا عرصہ خط و کتابت کے ذریعے بھی اور دیگر ذرائع سے بھی سمجھانے کی توفیق ملی۔خصوصاً سپین میں ایک لمبے عرصہ سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے ناراضگیاں، مربی سے دوریاں اور بدظنیاں وغیرہ وغیرہ امراض پائی جاتی تھیں لیکن اس دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ خدا کے فضل سے سب ایک جان ہیں نظام کا احترام ہے۔مربی کے ساتھ گہرا ادب کا تعلق ہی نہیں بلکہ پیار اور محبت کا تعلق قائم ہو چکا ہے اور یہ اسی کی برکتیں ہیں۔پس اس حوالے سے میں دنیا کی ساری جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ محض دینی علم کوئی چیز نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ حسین عمل شامل نہ ہو، اس کے بغیر تبلیغ مکمل نہیں ہوتی اور حسین عمل میں آپس کا نفاق ایک زہر کی طرح گھل جاتا ہے۔حسین عمل انفرادی طور پر خواہ کیسا ہی ہوا اگر جماعتوں میں آپس میں نفاق پایا جاتا ہے، دل بٹے ہوئے ہوں یا نظام جماعت سے بار بار شکوے پیدا ہوتے ہوں اور انسان کی انانیت اس کو امیر سے دور کر دے تو انفرادی حسن عمل سارا بیکار جاتا ہے کیونکہ دودھ خواہ کیسا ہی خالص کیوں نہ ہو اس میں اگر زہر کا قطرہ گھول دیا جائے تو وہ سارا دودھ زہریلا ہو جاتا ہے۔پس نفاق جماعتوں کے لئے ایک زہر ہے۔بعض لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں۔ہماری بات سنی جائے اور دوسرے کو سزادی جائے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر تمہاری انا نیت کو اس سے تسکین مل جائے اور میں کسی کو سزا دے بھی دوں تو تمہیں اس سے کیا ثواب پہنچے گا لیکن اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ” سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل کرو (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۲۰) تو میں یقین دلاتا ہوں کہ اس میں بہت بڑا ثواب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق کی سچائی کا اظہار ہو گا اور جس کو امام وقت سے سچا تعلق ہو وہ اس کی باتوں کو تخفیف سے نہیں دیکھ سکتا اور جس کا تعلق اس کی ذاتی جذباتی قربانی سے ثابت ہو جائے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس پر پیار کی نظر ڈالتا ہے۔تو جھگڑا خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو ایک موقع ہے اس میں ذاتی انتقام لینے کا بھی موقع ہے جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے اگر واقعہ کوئی مظلوم ہے اس کا حق ہے کہ وہ اتنا ہی بدلہ لے جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے اور اس سے زیادہ نہیں لیکن اگر وہ اس حق کو چھوڑ دے اور خدا کے لئے صبر اختیار کرے اور عفو سے کام لے تو اس کا اجر اللہ کے پاس ہے، وہ اجر کیا ہے؟ اس کی تفاصیل نہیں بیان فرمائی گئیں وہ اللہ کی