خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 371
خطبات طاہر جلد ۱۱ 371 خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء میں ترقی کی ہے، سائنسوں میں ترقی کی ہے وہ ممالک آج بھی اچھے اساتذہ کے نام کی قدر کرنے والے ہیں اور ان کی تلاش میں لوگ جاتے ہیں۔ایسی یو نیورسٹیوں میں داخل ہونے کے لئے محنت کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں جن میں اچھے مدرس موجود ہوں لیکن تیسری دنیا میں بدقسمتی سے بات اُلٹ چکی ہے۔آواز میں دی جاتی ہیں کہ آؤ اور ہم سے پڑھو لیکن کوئی نہیں پڑھتا۔یہ تو خیر ظاہری دنیا کا حال ہے۔دین کا جہاں تک تعلق ہے وہاں ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے۔پہلے بھی یہی تھا آج بھی ہے، کل بھی یہی رہے گا کہ مذگر اور مدرس ، نصیحت کرنے والا اور علم عطا کرنے والا آواز میں دیتا رہتا ہے آؤ اور مجھ سے نصیحت حاصل کرو، آؤ اور مجھ سے علم سیکھو لیکن لوگ پیٹھ پھیر کر منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اسی مضمون کو بیان فرمایا وَ إِذا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَوْسًا ( بنی اسرائیل :۸۴) کہ دیکھو جب ہم نعمت نازل کرتے ہیں یعنی نبوت نعمت کی سب سے اعلیٰ قسم نبوت ہی ہے اور یہاں نبوت ہی کے معنوں میں نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا تذکرہ چل رہا ہے اس کے بعد یہ آیت آتی ہے فرماي وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ دیکھو وہ نعمت جب ہم نے سب سے اعلیٰ انسان پر نازل فرمائی یعنی محمد رسول اللہ پر تو دوسرا انسان۔یہاں الإِنسَانِ سے مراد ایک تو محمد رسول اللہ ہیں جن کو نعمت بنا کر بھیجا گیا اور ایک وہ انسان ہے جس کو آپ نے مخاطب کر کے نعمت عطا کرنے کے لئے اپنی طرف بلایا اآعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِہ پس محمد رسول اللہ ﷺ کی نعمت سے استفادہ کرنے کی بجائے ان جاہلوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ اَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِے پہلو تہی کی اور پیٹھ پھیر لی اور دوسری طرف منہ کر کے چل پڑے۔یہ نعمت اپنے گھر رکھو، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔پس اس وجہ سے اس مضمون کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔دنیا کے لحاظ سے خواہ دنیاوی علوم میں کسی قوم کی کیسی ہی حالت کیوں نہ ہو ، دینی علوم کے متعلق قرآن کریم کا یہ فتویٰ جس طرح پہلے صادق آتا تھا اس طرح آج بھی صادق آتا ہے۔جب خدا کی طرف سے نعمت بانٹنے کا اعلان ہوا کرتا ہے تو بد قسمت انسان اکثر اوقات اس کی طرف پیٹھ کر دیتا ہے اور اس سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر جماعت احمد یہ تو بدقسمتوں میں سے نہیں ہے، جماعت احمد یہ تو ان خوش نصیبوں میں سے ہے جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو قبول کیا اور ایمان لائے اور اس