خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 347
خطبات طاہر جلدا 347 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء رہا ہوں۔فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِیمُ یہ اس آیت کی سچائی کی صلى الله ایک اور زندہ اور تابندہ مثال بن گئے کہ آنحضور ﷺہ عام پرندوں کے شکاری نہیں ہیں۔یہ تو شکاری پرندوں کے شکاری ہیں ان خونخوار جانوروں کے شکاری ہیں اور ان کی ایسی کایا پلٹتے ہیں کہ حیوانوں کو انسان اور انسانوں کو خدا انما انسان بنا دینے والے ہیں یہ اس آیت کا مضمون ہے۔پس اگر ہم جیسا کہ ہمارا یقین ہے محمد مصطفی ﷺ کے نہ صرف غلام بلکہ عاشق غلام ہیں اگر ہم اس خاطر دنیا میں قائم کئے گئے ہیں کہ محمد ﷺ کی سنت کو دوبارہ زندہ کریں اور زندہ کر کے سارے عالم میں جاری کر دیں تو پھر ہمارا فرض ہے۔ہمارا فرض کیا ہے؟ ہمیں تو اس بات کی لولگ جانی چاہئے یہ دھن لگ جانی چاہئے کہ اپنی ذات میں اُسوہ محمدیہ کو زندہ کر کے دکھا ئیں۔محمدمصطفی صل اللہ کی زندگی دو طریق پر ہے ایک تو وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے خدا کے ساتھ زندہ ہیں اس زندگی پر کوئی کبھی موت نہیں آسکتی لیکن آپ کی ایک زندگی امت محمدیہ میں ہو کر ہے جہاں کوئی مسلمان روحانی طور پر مرتا ہے وہاں اس زندگی میں کمی آجاتی ہے۔جہاں کوئی مسلمان روحانی طور پر زندہ ہوتا ہے وہاں محمد مصطفی ﷺ کو ایک اور زندگی ملتی ہے یہ وہ زندگی ہے جس کا ہر غلام محمد اللہ سے تعلق ہے، یہ وہ زندگی ہے جس کا آج جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلق ہے۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ کو ہر میدان میں جب بھی زندہ کرنے کی آپ توفیق پائیں گے تو آپ یقین رکھیں کہ آپ نے حمد اللہ کی شان کو اپنے اندر زندہ کیا دعوت الی اللہ کی شان کو بھی پوری طرح اپنے اندر زندہ کریں۔یہ مضمون ہے جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دشمنوں اور دشمنوں کے لیڈروں سے ڈریں نہیں بلکہ ان تک پہنچیں اور حکمت اور پیار کے ساتھ اس طریق پر جس طریق پر اس آیت نے آپ کو تبلیغ کا گر سکھایا ہے ان کو بھی ضرور پیغام پہنچا ئیں۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو بعض دفعہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حیرت انگیز طور پر بے شمار پھل عطا ہوتے ہیں کیونکہ دشمنوں میں سے جو لیڈر ہیں اگر وہ آئیں تو اکثر وہ اکیلے نہیں آتے بلکہ ان کے ساتھ قوم کی قوم آیا کرتی ہے۔بعض ملکوں سے تبلیغ کی رپورٹیں آتی ہیں ان میں ایسے واقعات کثرت سے ملتے ہیں کہ فلاں علاقے میں کوئی احمدیت کا نام نہیں سننا چاہتا تھا وہاں کا جوسب سے بڑا دشمن تھا ہم اس تک پہنچے اور جب باتیں کیں تو یہ معلوم کر کے حیران رہ گئے کہ اس کے اندر یہ سعادت پائی جاتی تھی۔