خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 331
خطبات طاہر جلد ۱۱ 331 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء "۔۔۔اور اگر قحط کیلئے بددعا ہے تو قادر مطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔اسی وجہ سے یہ بات ارباب کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہیں۔۔۔“ ارباب کشف اور کمال وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ کشوف کے ذریعہ اسرار غیب سے مطلع فرماتا ہے اور جو اپنے اندر صالحیت کے کمالات رکھتے ہیں، نیکی اور پاکیزگی کے کمال رکھتے ہیں۔۔۔ان پر بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہیں کہ ” کامل کی دعا میں ایک قوت تقویم پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔“ جو شخص کامل ہو اس کی دعا میں ایک تخلیق کی قوت پیدا ہو جاتی ہے اور اپنے رب کی صفت خالقیت میں وہ حصہ پاتا ہے اور جو چیز وجود میں نہیں ہے وہ عدم سے وجود میں آجاتی ہے اس کی دعا کی طاقت سے۔۔۔یعنی باذنہ تعالیٰ وہ دعا عالم سفلی اور علوی میں تصرف کرتی ہے۔۔۔“ دنیاوی حالت سے ہی وہ تصرف کرتی ہے اور آسمان میں پیدا ہونے والی حرکتوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔۔۔اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤید مطلوب ہے۔۔۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان اپنے مقصود کے حق میں ، اس کی تائید میں ایک خاص پہلو کی تلاش رکھتا ہے وہ خاص پہلوان دعاؤں کے نتیجہ میں پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے مقصود کو حاصل کرنے کیلئے جتنی تائیدی ہوائیں ہیں وہ چل پڑتی ہیں۔وو۔۔۔خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں اس کی نظیر میں کچھ کم نہیں ہیں بلکہ اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابت دعا ہی ہے۔۔۔66 آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کے تمام صحیفوں میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں صرف قرآن کا سوال نہیں ہے۔تمام انبیاء کی کتب میں اور خدا تعالیٰ نے جوصحائف ان کو عطا فرمائے ان میں اس کی بکثرت مثالیں ملیں گی اور۔۔۔اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابت دعا ہی ہے۔۔۔جو اعجاز کا نام آپ نے سناء معجزہ دکھانا، حیرت انگیز طور پر ایک بظاہر ناممکن چیز کا وقوع پذیر ہو جانا، فرمایا یہ ہی اس کی ایک قسم استجابت دعا سے تعلق رکھتی ہے۔