خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 330

خطبات طاہر جلدا 330 خطبه جمعه ۸ مئی ۱۹۹۲ء ہلاک نہیں کیا کرتا وہ کارفرما ہو جاتی ہے اور پھر ایسی قوموں کو بچالیا جاتا ہے۔یہ بہت بار یک تعلق۔دعا اور تدبیر کا جس کو آخری علاج کے طور پر یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔ہے پس نصیحت یہ بنی کہ وہ تو میں جو ضد کر بیٹھیں اور ان میں مصلحین نہ رہیں وہ ہلاک کی جاتی ہیں لیکن اگر مصلحین ان میں موجود ہوں اور کوشش کرتے رہیں تو پھر وہ بچائی جاسکتی ہیں لیکن زبردستی خدا تعالیٰ کسی کو نہیں بچایا کرتا۔پھر فرمایا کہ یہ قوم جس کو تو مخاطب ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضد کے آخری مقام پر پہنچ چکی ہے اس لئے ان کو صاف یہ کہہ دے کہ تم بھی کوشش کرو اور ہم بھی کوشش کرتے چلے جائیں گے۔تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کریں گے اور ان کی کیفیت بدلانے کیلئے تم عبادت پر زور دو۔عبادت پر مستعد ہو جاؤ اور خدا پر توکل رکھو اور یہ یقین کرو کہ زمین کے بعض فیصلے آسمان پر کئے جاتے ہیں اور جب خدا یہ فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تو پھر سب سے زیادہ فیصلہ کن امر عبادت ہے۔عبادت کے نتیجے میں پھر تقدیریں بدلا کرتی ہیں۔یہی وہ مضمون ہے جس کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی گہرائی کے ساتھ سمجھا اور ایک ایسی بات لکھی جو چودہ سو سال کے عرصے میں سوائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور کسی نے نہیں لکھی۔ایک عارف باللہ کا کلام اتنا ممتاز اور نمایاں ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے دوسرے علماء بھی اس کی گردکو نہیں پہنچ سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اگر بارش کیلئے دعا ہے تو بعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبیعہ جو بارش کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں۔۔۔“ بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه : ۱۰) یعنی اسباب تو ضروری ہیں اور خدا تعالیٰ کی جو یہ تقدیر ہے یہ اپنی جگہ جاری وساری رہے گی تو تم تبدیل نہیں کر سکتے۔تم فیصلہ دیتے ہو اسباب کے نہ ہونے کے نتیجے میں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم دعا کرو تو اسباب تو میں نے ہی پیدا کرنے ہیں۔دعا اسباب پر غالب آجاتی ہے ان معنوں میں کہ دعا کے نتیجے میں پھر خدا کی دوسری تقدیر حرکت میں آتی ہیں اور اسباب پیدا کر دیتی ہیں۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔