خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد ۱۱ 288 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء چکی تھی۔اسی طرح تاریخ شادی میں بھی غلطی ہوگئی تھی میں نے کہا تھا کہ مجھے یاد نہیں ہے لیکن غالباً کہا تھا کہ سترہ ہے۔وہ بھی وہاں سے حضرت چھوٹی آپا نے الفضل دیکھ کر بتایا ہے کہ ۸/ تاریخ کور بوہ سے بارات لاہور کے لئے روانہ ہوئی تھی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں یہ بارات گئی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ بوجہ بیماری خود شرکت نہیں فرما سکے تھے اور ۹ر دسمبر کو پیر کے روز لاہور میں شادی ہوئی اور پھر اسی روز وہاں سے واپس ہوئی پس یہ دو تاریخیں درست کرنے والی تھیں معمولی باتیں ہیں لیکن چونکہ یہ خطبات تاریخ کا حصہ بننے والے ہیں اس لئے ان میں غلطی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی اس کی تصحیح ساتھ ساتھ ہوتی رہنی چاہئے۔آج میں نے جو آیات کریمہ تلاوت کی ہیں یہ انہی آیات میں سے لی گئی ہیں یا انہی کا حصہ ہیں جو پہلے بھی تلاوت کی جاچکی ہیں۔پہلے تقریبا پورا رکوع میں نے تلاوت کیا تھا۔پہلی آیت یعنی أَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَقِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِنَ الَّيْلِ اگر چہ زیر بحث لائی جا چکی ہے لیکن آج اس آیت سے دوبارہ تلاوت اس لئے شروع کی کہ مجھے جمعہ کے بعد یہ بتایا گیا کہ زُلفا کی بجائے میں زُلفا پڑھ گیا تھا جہاں تک اس کی تصیح کا تعلق ہے وہ تو کیسٹ میں کر دی گئی تھی اور جماعتوں کو مطلع بھی کر دیا گیا تھا لیکن آج اس بات کو دہرانے کا مقصد اور ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے اس سلسلہ میں مزید تحقیق کی قرآن کریم میں یہ لفظ جس طرح مستعمل ہوا ہے اُن جگہوں کو دیکھا اور لغت کے حوالے سے مزید غور کیا کہ زُلفا اور زُلَفًا میں کیا فرق ہے۔قرآن کریم میں مثلاً لفظ زُلفی کی کھڑی زبر کے ساتھ تین مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ اس کا معنی قرب ہے لیکن زُلفا لفظ کی لغت کا جب میں نے مستند کتب سے جائزہ لیا تو ایک ایسا امر سامنے آیا جو ایک بہت قیمتی چھپا ہوا موتی تھا۔جسے اس آیت کے ضمن میں بیان ہونا چاہئے تھا لیکن وہ نظر سے اوجھل ہو گیا اور میں نے سوچا کہ بعض غلطیوں سے بھی اللہ تعالیٰ بہت سی برکتیں نکال دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حکمتیں بہت باریک ہیں۔پہلے میں آپ کے سامنے مختصر الغوی بحث رکھتا ہوں، قرآن کریم کی اس آیت میں لفظ زُلَفًا جو استعمال ہوا ہے اس کا مصدر ہے ظَلْفًا وَ زَلَفَاً و زَلِیفًا یہ تین مصادر آئے ہیں اور ان مصادر میں کہیں بھی فکلمہ یعنی " پر ضمہ یعنی پیش نہیں ہے زُلفا و زَلَفًا و زَلِيْفًا اور زُلَفًا کا لفظ مصدر میں یہاں استعمال نہیں ہو الیکن اس مصدر سے ایک اور اشتقاق ہوا ہے یعنی اس سے مشتق نکلا ہوا ایک اور