خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 235

خطبات طاہر جلدا 235 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء تھی اور خاص طور پر درد کے دوروں میں وہ بہت زیادہ مددگار ثابت ہوئیں۔تو میں نے ان کے سامنے یہ معاملہ رکھا کہ میں ٹھہر سکتا ہوں پھر قادیان کا پروگرام کینسل کرنا پڑے گا اور ساری دنیا سے احمدی آ رہے ہیں اور ہندوستان کے کونے کونے سے احمدی آرہے ہیں لیکن آپ کا فیصلہ ہے۔آپ بتائیں کہ آپ ٹھہریں گی یا جانا چاہیں گی انہوں نے کہا میں جاؤں گی۔چنانچہ یہ جو قربانی تھی اس نے قادیان کا تاریخی جلسہ ممکن بنا دیا۔پس ان معنوں میں ہمارے اُن سب کاموں میں شریک ہو گئیں جو نیکی کے کام ہمیں قادیان میں کرنے کی توفیق ملی اور یہ احسان مجھ پر بہت بھاری ہے۔قادیان کے دنوں میں جب بیماری شدت اختیار کرتی تھی اور درد سے تڑپتی تھیں تو مجھے کہا کرتی تھیں کہ کوئی دوائی دو اور میں بعض دوائیاں دیتا تھا۔ایلو پیتھی دوائیاں بھی ساتھ جاری تھیں مگر اُن سے پورا آرام نہیں آتا تھا کیونکہ وہ کینسر کے نقطہ نظر سے نہیں دی جارہی تھیں تو اللہ کے فضل سے بعض دفعہ تو چند منٹ کے اندر اندر سکون سے سو جایا کرتی تھیں۔لیکن یہ بات دل میں جاگزیں ہوگئی تھی کہ میری بیماری بہت گہری ہے اور ڈاکٹروں کو پتا نہیں لگ رہا۔مجھے کہتی تھیں کہ کینسر تو نہیں ہے۔تو میں نے پھر جب ایک دفعہ دعا کی تو ایک عجیب رؤیا دیکھی۔جس کی وجہ سے مجھے تسلی ہوئی لیکن بعد کے حالات سے مجھے پتا چلا کہ اللہ کی خاص شان تھی ایک خاص رنگ میں اس نے تسلی کا اظہار فرمایا لیکن اس کے باوجود تقدیر بدلنے کا کوئی سوال نہیں تھا۔تقدیر اپنی جگہ قائم رہی۔ایک رؤیا میں میں نے دیکھا کہ ان کی والدہ امتہ السلام ایک گھر میں کھڑی ہیں اور گھر کا نقشہ اس طرح ہے جس طرح یہ مسجد لمبائی میں ہے اور یہاں تقریباً ۲۔۳ چوتھائی جگہ کے سامنے وہ یوں اس طرف منہ کر کے جدھر سے میں آرہا ہوں کھڑی ہیں اور بائیں ہاتھ ایک نالی سے پارا ایک کچن یعنی باورچی خانہ ہے جس میں کوئی کھڑا ہے اور کھانے پکے ہوئے ہیں اور آپا میرا انتظار کرتی ہیں۔پھر مجھے دیکھ کر خوشی سے کہتی ہیں وہ آ گیا ہے اور گھر کی حالت وہ یہ مجھے بتاتی ہیں کہ ساری نالیاں بند ہیں اور کھانا ساتھ تیار ہے لیکن اس طرف نہیں آسکتا اور کوئی نہیں کھارہا اور کچن میں بالکل ٹھیک اسی طرح کھانا موجود ہے۔ساتھ یہ کہا کہ ایک دفعہ پہلے بھی اس طرح نالیاں بند ہوئی تھیں۔جب یہ آیا تو اس نے کوئی چیز چلائی اور آسمان کی طرف اڑ کر پھر کوئی چیز گری اور نالیاں کھل گئیں اب پھر ایسا ہی ہوگا کہ نالیاں کھل جائیں گی۔تو اس پر صبح اٹھ کر مجھے تاویل یہ سمجھ آئی کہ پہلے جب دل کی بیماری کا حملہ ہوا ہے