خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 234

خطبات طاہر جلد ۱۱ 234 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۹۲ء لیکن بڑے ہی صبر کے ساتھ کبھی مطالبے نہیں کئے۔ساری زندگی میں مجھ پر یہ بوجھ نہیں ڈالا وہ لا ؤ جو تمہارے پاس نہیں ہے۔مزاج کے اختلاف کی وجہ سے اور دینی پس منظر کے اختلاف کی وجہ سے رفتہ رفتہ بہت توجہ اور پیار کے ساتھ اور سمجھا بجھا کر ان کی تربیت کرنی پڑی شروع میں ان کو جماعت کی خواتین اور جماعت کی تنظیموں سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ اس تعلق کو قائم کیا لیکن اس سے پہلے میں شادی کے استخارہ سے متعلق ایک بات بتادوں۔قادیان میں ۴۶ ۱۹۴۵ء کی بات ہے کہ جب میں نے ان کے ساتھ شادی کا پیغام دینے کا فیصلہ کیا۔حضرت مصلح موعود کی یہ عادت تھی کہ بیٹوں سے بھی پوچھا کرتے تھے بیٹیوں سے بھی پوچھا کرتے تھے، اپنی مرضی نہیں ٹھونستے تھے لیکن اگر کوئی غلط فیصلہ ہو تو اُسے سمجھا دیا کرتے کہ یہ مناسب نہیں ہے۔اس طرح ایک بہت اعلیٰ پاکیزہ افہام وتفہیم کے ماحول میں سب کے رشتے طے ہوئے۔تو میں نے جب ان سے شادی کا فیصلہ کرنا تھا اس سے پہلے استخارہ کیا اور رویا کی حالت میں یعنی جاگتے ہوئے نہیں بلکہ نیند کی حالت میں الہام ہوا اور اس کے الفاظ یہ تھے کہ ” تیرے کام کے ساتھ اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔“ اس وقت مجھے بڑا تعجب ہوا کہ میرے کون سے کام ہیں ؟ وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھ سے کیا کام لے گا۔اس میں یہ عجیب پیغام تھا کہ عملاً کاموں میں ان کو شرکت کی اتنی توفیق نہیں ملے گی لیکن میرے تعلق کی وجہ سے خدا ان کو میرے کاموں میں شریک فرمادے گا اور ان کو بھی اس کا ثواب پہنچتا رہے گا۔اس ثواب میں یہ ہمیشہ بڑے صبر اور رضا کے ساتھ حصہ لیتی رہیں اور مجھ سے ان کا جس حد تک تعاون ممکن تھا ہمیشہ کیا لیکن خاص طور پر قادیان کے اس سفر پر میرے دل پر بہت گہرا اثر ہے۔جانے سے دو تین ہفتے پہلے اچانک ان کی حالت بگڑی ہے اور دراصل وہی وقت تھا جب پتے کا کینسر شروع ہو چکا تھا اور تفصیل سے اس کا علم نہیں تھا۔ڈاکٹروں کا بھی اس طرف ذہن نہیں گیا پتھری سمجھتے رہے اور بعض ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ پہلے یہاں آپریشن کروایا جائے پھر قادیان کا سفر اختیار کیا جائے ورنہ خطر ناک ہے۔میرے لئے یہ اس لئے ممکن نہیں تھا کہ اگر میں اُن کو چھوڑتا تو ان کے مزاج کا مجھے علم تھا یہ میری موجودگی کے بغیر دوسرے خیال کرنے والے ہاتھوں میں تسلی نہیں پاسکتی تھیں۔پھر بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ ایلو پیتھی کی دوائیاں کام نہیں کرتیں تو ہومیو پیتھی دینی پڑتی