خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 221
خطبات طاہر جلدا 221 خطبه جمعه ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء میں اشارہ ہے۔اس لئے میں نے آج کی تلاوت کے لئے سورۃ قدر کو نہیں چنا بلکہ سورۃ دخان کی ان آیات کو چنا ہے جن میں لیلۃ القدر کے دوبارہ ظہور کا ذکر فرمایا گیا ہے۔اور یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ آئندہ زمانے کے اندھیروں کو بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بعثت ثانیہ کے ذریعہ روشنی میں تبدیل فرمایا جائے گا اور یہ آنحضرت ﷺ کا ہی فیض ہوگا اور حضور اکرمہ کا ہی نور ہوگا جو دوبارہ آخری صلى الله زمانے میں چمکے گا۔سورۃ دخان میں ان آیات کو رکھنے میں ایک بڑی حکمت ہے۔سورۃ دخان وہ سورۃ ہے جو اندھیروں سے تعلق رکھتی ہے۔جس کے متعلق فرمایا گیا کہ دھواں دنیا پر چھا جائے گا اور بڑا مہلک دھواں ہوگا۔مادی لحاظ سے بھی وہ مہلک دھواں ہوگا۔اس کی Radiation زندگی کو ہلاک کرنے والی ہوگی اور روحانی لحاظ سے بھی ایک ایسی تہذیب کا دھواں ہوگا جو ساری دنیا کو روحانی ہلاکتوں میں مبتلا کر دے گا۔جس پر اس دھوئیں کا سایہ آیا اس کے لئے روحانی موت کا پیغام بن کر آئے گا اور جس نے اُس کو قبول کیا اور اُس سے محفوظ نہ رہا اُس کی اُخروی زندگی گویا کہ ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد ہوگئی۔ایسے موقع پر کوئی خوشخبری بھی تو ہونی چاہئے تھی، کوئی بچنے کی راہ بھی تجویز ہونی چاہئے تھی۔آنحضرت ﷺ نے دجال سے ڈرایا اور سورۃ دخان کے مضمون کو دجال کے ساتھ باندھا اور ہمیں اس بات کی عقل عطا فرمائی کہ دجال کا زمانہ سورۃ دخان میں بیان ہوا ہے اور اس کے بچنے کے لئے ہمیں بہت سی نصائح فرمائیں۔اُن نصائح میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم دقبال کے زمانے سے بچنے کے لئے سورۃ کہف کی پہلی دس آیات اور آخری دس آیات کی تلاوت کیا کریں کیونکہ ان میں دجال کی دونوں حیثیتوں کی نشان دہی ہوتی ہے۔اس کے مذہب کی بھی کھلے کھلے لفظوں میں تعیین کی گئی ہے اور اس کی سائنسی ترقی کا بھی آخری آیات میں ذکر ہے۔يُحْسِنُونَ صُنعًا (الکہف:۱۰۵) کہہ کر فرمایا کہ وہ صنعت و حرفت میں اتنی حیرت انگیز ترقی کرے گا کہ وہ خود بڑے فخر سے یہ سمجھا کرے گا اور سوچا کرے گا کہ دیکھو میں کس شان کا خالق بن گیا ہوں۔کیسی کیسی عجیب اور عظیم صنعتیں پیدا کر رہا ہوں گویا وہ خدا کے مقابل پر خدائی کا دعویدار بھی بن بیٹھے گا۔ایسے موقع پر دجال کے دوفتوں سے بچنے کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ایک فتنہ مذہب کا فتنہ ہے یعنی خدا کے ساتھ شریک ٹھہرا لینا اور عاجز بندہ کو واقعہ خدا کا بیٹا قرار دے دینا اور دوسرا فتنہ ان کی تہذیب اور تمدن اور صنعتوں کے نتیجہ میں