خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 220

خطبات طاہر جلدا 220 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء ذات کو میں نے دنیا کے اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کرنے کے لئے بھیجا ہے اس ذات پر جس رات میں نے یا جن راتوں میں میں نے قرآن کریم کا نزول فرمایا یہ راتیں مجھے اتنی پیاری ہیں کہ اگران راتوں میں اُٹھ کر میرا کوئی بندہ مجھ سے کامل خلوص کے ساتھ بخشش طلب کرے گا اور اپنے پرانے گناہوں سے تائب ہوتے ہوئے میرے غفران کی چادر میں لپٹنے کے لئے بے چین ہو جائے گا تو میں اس سے وعدہ کرتا ہوں یہ رات اس کی زندگی کی تمام راتوں اور تمام دنوں سے بہتر ہوگی اور وہ اپنی زندگی کے مقصود اور مطلوب کو پا جائے گا۔پس آنحضرت ﷺ کی زندگی کا مقصود اور مطلوب دونوں دنیاؤں کو روشن کرنا اور ہر زمانے کے لئے روشن کرنا اور ہر زمانے کے لئے روشن کرتے چلے جانا تھا اور افراد کے لئے پیغام یہ تھا کہ وہ ایسی رات کو تلاش کریں جس سے ان کی ساری زندگی روشن ہوتی چلی جائے۔چنانچہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا دور یعنی اس آخری عشرے کا دور ہمارے لئے وہ مبارک رات لے کر آتی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ہم اکثر خاص راتوں میں سے گزرنے کے اس عشرے کی خاص راتوں میں سے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو تلاش کرتے ہوئے گزرنے کے باوجود پھر واپس اپنی تاریک راتوں میں لوٹ جاتے ہیں۔وہ تاریک راتیں جو ہمارے اپنے گناہوں اور اپنی کمزوریوں کی راتیں ہیں جن کو لیلتہ القدر نہیں کہا گیا جو صرف راتیں ہی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ قدر کی کوئی خوشخبری نہیں دی گئی۔پس یہی وہ راتیں ہیں جو قدر کی راتیں ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی تقدیر خیر بھی ظاہر ہوتی ہے اور تقدیر شر بھی۔تقدیری شران بدنصیبوں کے لئے جو ان راتوں سے فائدے اٹھائے بغیر ان سے گزر جاتے ہیں اور تقدیر خیر ان کے لئے جو ان راتوں میں سے کوئی ایک ایسا لمحہ پا جاتے ہیں جس کی چمک دمک، جس کی لماس ان کی ساری زندگی کی تاریکیوں کو روشن کر دیتی ہے۔پس یہ وہ خاص مبارک راتیں ہیں جن میں ہم داخل ہو چکے ہیں اور جماعت احمدیہ کو ان کی طرف خصوصیت سے توجہ کرنی چاہئے اور ہم میں سے ہر شخص کو انفرادی طور پر یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ان راتوں سے گزر کر وہ ایک نیا انسان بن کر نکلے اور اس کی اپنی تاریک راتیں ہمیشہ کے لئے اُس سے منہ موڑ لیں اور حضرت محمد مصطفی سے کا سورج ہمیشہ کے لئے اس پر روشن ہو اُس کے ہر تاریک گوشے کو روشنی میں تبدیل فرما دے۔دوسرا معنی جو زمانے کے ساتھ تعلق رکھنے والا جو معنی ہے اس کی تکرار کی طرف قرآن کریم