خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد ۱۱ 14 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء ہے جس پر کڑوی چیزیں تو آگ سکتی ہیں مگر ثمرات حسنہ اس کو عطا نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کی جڑیں گندی ہوگئی ہیں۔جب تک اہل پاکستان اپنی جڑوں سے ملائیت کے جراثیم نہ نکالیں اور محمدمصطفی ہے کے مکارم الاخلاق کو وہاں قائم نہ کریں ، اس وقت تک اس ملک کا بھی کچھ نہیں بن سکتا۔اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنے اور دنیا میں عالمگیر تبدیلیاں برپا کرنے کی ہم عاجزوں اور غریب بندوں کو توفیق عطا فرمائے۔آمین۔منتقل: خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا۔میں نے اہل کشمیر کا بھی خصوصیت سے ذکر کرنا تھا لیکن اس وقت خیالات دوسری طرف ہوتے چلے گئے تو ان کا ذکر رہ گیا۔جہاں تک اخلاص اور جوش کا تعلق ہے کشمیر سے آنے والے ہزار ہا احمدیوں نے جس اخلاص اور جوش کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی ایک قابل دید منظر تھا، ایسا جو ہمیشہ کے لئے یادوں میں پیوست ہو جاتا ہے اور وہاں بھی غربت ہے لیکن بعض دوسرے علاقوں کی نسبت کم ہے۔لیکن جس طرح علاقے کا امن اٹھ چکا ہے وہاں سے ان حالات میں ان کا جوق در جوق آنا ایک بہت بڑی قربانی کا تقاضا کرتا تھا جو انہوں نے پیش کی۔شروع میں مجھے یہ بتایا گیا کہ شاید ہزار کی تعداد میں کشمیری آجائیں اور اس پر بھی خیال یہ تھا کہ ہزار تو بہت زیادہ ہیں۔شاید خوش فہمی کا اندازہ ہے مگر وہ جو کشمیر کے جذبے کو اور اخلاص کو جانتے تھے وہ مجھے یقین دلا رہے تھے کہ پندرہ سو دو ہزار اس سے بھی زیادہ کی توقع رکھیں۔چنانچہ آخر پر مجھے یہ بتایا گیا کہ اللہ کے فضل سے کشمیر سے آنے والے احمدیوں کی تعداد تقریباً تین ہزار تک پہنچ چکی تھی۔خواتین بھی بڑی کثرت سے آئیں ، مرد بھی ، بچے بھی اور بہت ہی محبت اور پیار سے اور بڑی مستعدی سے انہوں نے اپنے اپنے فرائض ادا کئے اور اب بھی ان کی کچھ تعداد ابھی پیچھے ٹھہری ہوئی ہے۔کشمیر کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کشمیر کی جماعت کے لئے خصوصی دعا کی تحریک کرتا ہوں۔اللہ اس خطے کو بھی سچائی اور انصاف کا امن نصیب کرے۔آمین۔