خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 128
خطبات طاہر جلد ۱۱ 128 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء لاتا ہے اور جب نقائص سامنے لاتا ہے تو وہ کہتا ہے میں متفق نہیں ہوں۔جب اپنے آپ کو متقی نہیں سمجھتا تو وہ کہے گا مجھے فرقان عطا نہیں ہوگی، مجھ سے خدا یہ سلوک نہیں فرمائے گا، وہ سلوک نہیں فرمائے گا، میرے لئے منصوبے نہیں بنائے گا تو پہلا قدم اُٹھانے سے پہلے ہی اس کی کمر ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔یہاں دیکھیں خدا نے کیسی عجیب تعریف فرمائی ہے۔یہ دراصل وہی تعریف ہے جو قرآن کریم میں سورۃ بقرہ کے آغاز میں ہی بیان کی گئی ہے۔فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔وہاں متقی سے مراد اعلی درجے کے تربیت یافتہ لوگ نہیں ہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی ہدایت پاچکے ہوتے ہیں۔وہاں تقوی کی وہ تعریف ہے جو اس آیت میں پیش نظر ہے کہ انسان سچائی کے ساتھ ، خالص نیت کے ساتھ پاک ہونے کا ارادہ کرے۔یہ فیصلہ کرے کہ اس راہ پر چلنے کے لئے مجھے اس راہ کے اسلوب بھی سیکھنے ہوں گے اور میں اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ اس رستے پر چلتا ہوا اچھا نہیں لگتا۔یہ ارادہ کر کے جب وہ یہ فیصلہ کرے کہ میں پوری کوشش کروں گا کہ اپنے نقائص کو دور کروں اور اپنی خوبیوں میں اضافہ کروں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تجھے متقی قرار دے دیا ہے۔تیرا یہ ارادہ ہی مجھے منظور اور مقبول ہے اگر یہ خالص ہے اگر یہ سچائی کے ساتھ کیا ہوا ارادہ ہے تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ تجھے ضر ور فرقان عطا کرے گا کیونکہ میری خاطر میرے رستے پر چلنے کے لئے تو نے یہ پروگرام بنایا ہے۔فرقان کا مضمون یہ بات کھول رہا ہے اور بعد میں آنے والی آیت یہ بات روزِ روشن کی طرح ظاہر کر رہی ہے کہ یہاں وہ متقی مراد ہے جو دعوت الی اللہ کا ارادہ کر کے گھر سے نکلتا ہے یا دعوت الی اللہ کے ارادے گھر بیٹھے باندھتا ہے اور ان سوچوں میں غلطاں ہے اور پریشان ہے کہ اے خدا میں تو کمزور ہوں۔میرے اندر یہ بیماری ہے وہ بیماری ہے طرح طرح کے عوارض مجھے لاحق ہیں میں تو اپنے آپ کو اس لائق نہیں پاتا کہ باہر نکل کر تیری طرف دنیا کو بلاؤں کیونکہ جو تیری طرف بلانے والا ہو اس میں تیرے جیسے اخلاق چاہئیں۔دنیا دیکھ تو سکے کہ کس کی طرف سے آیا ہے۔یہ وہ شکوک اور شبہات ہیں جن کے رد کے طور پر آیت کا بقیہ حصہ ہے اور بقیہ حصہ یہ بتارہا ہے کہ یہ وہم پہلے پیدا ہوئے ہیں تو سب سے پہلے سب سے بڑی خوشخبری رکھ دی۔ہم تجھے فرقان کی بشارت دیتے ہیں ، تیرے اور غیر میں تفریق کی جائے گی۔یہاں لفظ فرقان دوہرے معنی رکھتا ہے۔اس پر آپ غور کریں تو انسان قرآن کی فصاحت و بلاغت پر وجد میں آجاتا ہے۔دعوت الی اللہ کرنے