خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 107

خطبات طاہر جلدا 107 خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۹۲ء حکومت پر استوای فرمایا گیا اور شمس اور قمر کو اس نے مسخر کر دیا۔كُلٌّ يَجْرِى لِأَجَلٍ مُّسَمًّى یہ سب اپنے اپنے منتھی کی طرف مسلسل حرکت میں ہیں۔يُدَبَّرُ الْآمر اس طرح خدا تدبیر فرماتا ہے۔يُفَصِّلُ الْآیت اور اپنے نشانوں کو کھول کھول کر تمہارے سامنے رکھتا ہے لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُونَ تاکہ تم اپنے رب کی لقاء کا یقین پیدا کر سکو۔ان آیات میں جوستونوں کا نہ نظر آنا ہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہماری آنکھیں بہت سے ایسے ذرائع کو دیکھ نہیں سکتیں جن کے ذریعہ ایک نظام چل رہا ہولیکن ہماری آنکھوں کا نہ دیکھنا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ ذریعے موجود نہیں ہیں بلکہ ذریعے موجود ہوتے ہیں اور ایسے ذرائع بھی خدا استعمال فرماتا ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آتے اور اس کا نام اللہ تعالیٰ نے تدبیر رکھا ہے۔قرآن کریم میں تدبیر سے متعلق جو مختلف آیات ہیں ان کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ خدا کی بعض تدبیریں ظاہر وباہر ہیں وہ ہر ایک کو دکھائی دیتی ہیں۔بعض تدبیریں مخفی ہیں اور جہاں تک مخفی تدبیروں کا تعلق ہے اگر خدا ہمیں خبر نہ دیتا تو جس زمانہ میں یہ آیات نازل ہوئی تھیں اس زمانہ میں کسی کوان تدبیروں پر اطلاع نہ ہوتی۔آج کے زمانہ میں خدا کی ان تدبیروں کو بنی نوع انسان میں سے جو سائنس دان ہیں اور جنہوں نے کھوج لگائے ہیں انہوں نے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور تدبیروں کی تہہ تک اُترنے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے پس پردہ اور بھی تدبیریں ہیں جو مخفی ہیں اور نظر نہیں آرہیں۔وہاں تک پہنچنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ان کے پیچھے اور بھی تدبیریں ہیں جو ہمارے علم سے ابھی مخفی ہیں اور دکھائی نہیں دیتیں تو خدا تعالیٰ کی تدبیر کا جو سلسلہ ہے یہ تہ در تہ چلتا ہے بطن در بطن جاری ہے اور بہت سی تدبیریں ہیں جو ظاہر دکھائی دیتی ہیں بہت سی ہیں جو نہیں دکھائی دیتیں اور آج سائنس دانوں کو جو یہ تدبیریں دکھائی دینے والی ہیں تو ان کا بھی قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات خود اپنے حکم سے ان تدبیروں کو ظاہر فرماتا ہے اور ایسی تقدیر جاری کرتا ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو خدا تعالیٰ کے نظام کے مخفی راز معلوم ہونے شروع ہو جاتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ الزلزال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔