خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 995
خطبات طاہر جلد ۱۰ 995 خطبہ جمعہ ۲۰/ دسمبر ۱۹۹۱ء نظام کے مطابق کام کریں۔اگر نہیں ہے تو یا درکھیں کہ ہر کمرہ کا ایک امیر ہونا ضروری ہے۔اس کا نظام کے تابع انتخاب کر کے یا مقرر کروا کے پھر اندرونی انتظامات کو مکمل کریں۔کوئی بیمار ہوتا ہے تو وہ کیا کرے؟ اس کا ان سب کو علم ہونا چاہئے۔کوئی اور ایمر جنسی ہو جاتی ہے ، حادثہ ہوجاتا ہے تو کیا ہونا چاہئے؟ یہ پھر آپ کی قیامگاہ کے امیر کا کام ہے کہ اپنے ساتھ نائین بنائے۔سب ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے وقت پر آپ کو مطلع کرے بلکہ پہلے سے بتا رکھے کہ یہ بات ہو تو یہ ہونا چاہئے۔فلاں بات ہوتو یہ ہونا چاہئے۔کوئی کسی قسم کی شرارت کرتا ہے تو اس کا یہ توڑ ہے۔اگر پولیس کے پائیں جانا ہے تو کس طرح جانا ہے۔کس نظام کی معرفت اور کس وسیلے سے پہنچنا ہے۔یہ ساری باتیں ایسی تفصیلی ہیں جو بعض دفعہ منتظمین سمجھتے ہیں کہ سب کے علم میں ہی ہیں۔سب کے سب جانتے ہیں کیونکہ خودان کے علم میں ہیں حالانکہ بہت سے بھولے بھالے باہر سے آنیوالے ایسے ہیں کہ ان کو کوئی پتا نہیں ہوتا کہ کیا کرنا چاہئے۔ان کی تربیت کرنی ضروری ہے۔پس جماعت کے ہر نظام میں تربیت کا ایک از خود رفته نظام جاری ہو جایا کرتا ہے اور جلسے کی برکتوں میں سے ایک یہ بھی برکت ہے کہ اس جاری وساری نظام سے بہت سے لوگ فیض پاتے ہیں اور واپس جا کر بہتر زندگی گزارنے کی اہلیت حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔پس اس بات کو یاد رکھئے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے احسانات میں سے ایک یہ بھی احسان ہے کہ امارت کے بغیر کی زندگی کا کوئی تصور بھی مسلمان کے لئے باقی نہیں رہتا اسے لازماً نظام کی کڑی کے طور پر نظام کے سلسلے سے مربوط ہو کر رہنا پڑے گا اور اس کا یہ طریق ہمیں سمجھایا کہ اگر تم سفر پر جاتے ہو، کہیں بھی ہو، بغیر امارت کے نہیں رہنا چاہئے۔یہی امارت ہے جس کا سلیقہ اگر مومنوں کو عطا ہو جائے تو اس سے صالح امامت رونما ہوتی ہے اور خلافت کی حفاظت کے لئے بھی اس نظام کا تفصیل سے جاری رہنا ، جاری رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا بڑا ضروری ہے۔پس ان تمام فسادات سے بچنے کے لئے اور اس دیر پا دُوررس اور اعلیٰ نیت کے ساتھ کہ نظام جماعت کی حفاظت اور صالحیت کے لئے یہ باتیں ضروری ہیں۔جہاں بھی آپ رہیں گے وہاں ایک امیر بنا کے ان تمام باتوں پر نظر رکھئے جو ایسے بڑے اجتماعات میں حادثوں یا شرارتوں کی صورت میں رونما ہو سکتے ہیں۔ان کی پیش بندی کے لئے ترکیب سوچئے ، سامان پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں ، کوئی آئے گا کیسے