خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 986 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 986

خطبات طاہر جلد ۱۰ 986 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۹۱ء سے ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔اگر آپ مزید غور کریں تو آپ کا دل اس یقین سے بھر جائے گا کہ یہ تمام فیوض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتداء جاری ہوئے اگر حضرت محمد مصطفی ملے ان فیوض سے اپنا کوثر بھر کر ہمارے لئے ہمیشہ کیلئے جاری نہ فرماتے تو ہم ان فیوض کو پا نہیں سکتے تھے۔ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے تھے۔ان کی تفاصیل سے لاعلم اور جاہل رہتے اس لئے یہ درست ہے کہ ہر برکت کا آغا ز خدائے واحد و یگانہ سے ہے۔لیکن بعض انسانوں کو وہ تو فیق عطا فرماتا ہے کہ ادنیٰ درجہ کے گنہگار انسانوں کیلئے ایک وسیلہ بن جائیں اورسب سے بڑا وسیلہ دنیا میں حضرت محمد مصطفیٰ بنے کیونکہ سب سے کامل تعلیم آپ پر نازل ہوئی اور زندگی کے سب سے زیادہ تقاضے کرنے والی تعلیم آپ پر نازل ہوئی۔اتنے تقاضے ہیں کہ دنیا کے کسی مذہب میں اس کا عشر عشیر بھی آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔اگر تقاضوں پر نظر رکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی زندگی دوبھر ہو جائے گی۔اس کی ساری عمر ایک قید خانے میں بسر ہوگی جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو ذکر کرتے ہوئے ان الفاظ میں ظاہر فرمایا کہ الدنيا سجن للمومن وجنة للكافر (مسلم کتاب الزهد والرقاق حدیث نمبر ۵۲۵۶) که دنیا مومن کے لئے تو قید خانہ ہی ہے۔کافر کی جنت ہوتی ہوگی لیکن مومن کے لئے قید خانہ ہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب ہم ان لفظوں پر غور کرتے ہیں تو یہ قید خانہ بھی مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے ظاہر ہوتا ہے بعض قیدی ہمیں بہت خوش نظر آتے ہیں اتنے خوش کہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ اس قید خانہ سے باہر ایک سانس بھی لیں اور کئی قیدی ہیں جور سے تڑاتے پھرتے ہیں اگر وہ تڑا اسکیں تو تڑا لیتے ہیں ، بے قاعدگیاں کر سکیں تو کرتے ہیں۔ورنہ ان کی زندگی ایک قسم کا عذاب بنی رہتی ہے۔تو کس قسم کا قید خانہ ہم نے قبول کرنا ہے یہ راز بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہم پر اپنا نمونہ پیش کر کے کھول دیا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ قیود کو آپ نے قبول فرمایا اور سب سے زیادہ پُر لطف زندگی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی زندگی تھی جن کی عشرت اپنے آقا ومولیٰ اللہ جل شانہ کی کامل اطاعت میں تھی۔اس کی عبادت میں آپ کو سرور ماتا تھا۔آپ کی تمام تر روحانی لذتیں اپنے خدا کی ذات سے وابستہ تھیں۔پس قید بھی تو مختلف قسم کی ہوتی ہے۔بعض قید میں ایسی ہیں جو زندگی کی تمام سہولتیں فراہم کرنے والی ہوتی ہیں اور بعض قیدیں ایسی ہیں جو زندگی کی تمام صعوبتیں وارد کرنے