خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 968
خطبات طاہر جلد ۱۰ 968 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۱ء جاتا ہے۔کیونکہ اس مناظرے کا پس منظر بتایا جاتا ہے وہ صورت حال بتائی جاتی ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائیوں پر یہ جوابی حملہ کیا ہے اور جب خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ سمجھایا جاتا ہے کہ یہ حملہ ہرگز اس پاک اور مقدس ذات پر نہیں جس کا ذکر قرآن کریم میں مسیح نبی اللہ کے طور پر ملتا ہے بلکہ اس فرضی وجود پر ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور عیسائیوں کے لٹریچر میں خود ان کی اپنی زبان سے اس کا یہ تعارف کروایا گیا ہے اور جب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے جوابی حملے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو پڑھنے والے کا دل بجائے اس کے کہ احمدیت سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے متنفر ہوا چانک حضرت مسیح موعود اور احمدیت کی تائید میں اس کا دل پلٹ جاتا ہے۔چنانچہ اس کا ایک تجربہ ہالینڈ میں ہوا وہاں احمدیت کے ایک بہت پرانے واقف اور جماعت میں آنے جانے والے دوست تھے جو غالبا گزشتہ ۲۴ سال سے یا اس سے بھی شاید زائد عرصہ سے ہالینڈ میں تھے۔وہ ایک اچھے عالم اور علم دوست انسان تھے۔ان کے متعلق جب مجھ سے تعارف کروایا گیا کہ انہوں نے حال ہی میں بیعت کی ہے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کس طرح آپ کو بیعت کی توفیق ملی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے آپ کے مقامی امام نے ایک رسالہ ڈچ زبان میں ترجمہ کے لئے بھجوایا تھا اور اس کا عنوان ہے : ” حضرت مسیح کی ہتک یا گستاخی کا الزام اور اس کا جواب وہ کہتے ہیں جب میں نے وہ پڑھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی صداقت اس طرح دلنشین ہوگئی کہ اس کے بعد میرے لئے کسی تردد کا کوئی سوال باقی نہیں رہا۔پس وہی چیز جسے ایک رنگ میں دشمن پیش کرتا ہے اور احمدیت سے متنفر کر دیتا ہے جب صحیح پس منظر میں پیش کی جائے تو احمدیت کی محبت پیدا کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔پس اس پہلو سے ہر ملک کا فرض ہے کہ دشمن کی کارروائیوں پر نظر ر کھے اور یہ علم ہوتے ہی کہ فلاں قسم کا لٹریچر جماعت کے خلاف شائع کیا جارہا ہے فوری طور پر معلوم کیا جائے کہ اس لٹریچر کا پہلے کون سا موثر اور شافی جواب موجود ہے۔اگر نہ ہو یا اس وقت کے حالات کے تقاضوں کے مطابق پورا نہ ہوتو نیا لٹریچر تیار کیا جائے لیکن یہ کام لازما اول طور پر سیکرٹری اصلاح وارشاد کا ہے اور چونکہ سیکرٹری دعوت الی اللہ اسی کے تابع ہے یا اسی کے دو نام ہو سکتے ہیں اس لئے جہاں تک مجھے یاد ہے یہ