خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 967 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 967

خطبات طاہر جلد ۱۰ 967 خطبہ جمعہ ۱۳ / دسمبر ۱۹۹۱ء جوابی کارروائی براہ راست مرکز سے ہونی چاہئے مثلاً انگلستان میں بعض دفعہ عیسائیوں کی طرف سے بعض دفعہ دوسرے مسلمانوں کی طرف سے جماعت کے خلاف اشتعال انگیز لٹریچر ، غلط فہمیاں پھیلانے والا لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے اور یہاں کوئی شخص اپنے آپ کو یہ ذمہ دار نہیں سمجھتا کہ اگر خلیفہ وقت یہاں موجود نہ ہو تو تب بھی ہماری لازما ذمہ داری ہے کہ ہم خود اس کا جواب دیں یا جواب تلاش کریں۔فوری طور پر جماعت کو مطلع کریں کہ کیا کارروائی کی جارہی ہے۔بعض دفعہ کئی کئی مہینے کے بعد اتفاقاً کوئی احمدی دوست وہ لٹریچر اٹھا کر مجھے بھجوا دیتا ہے کہ میرے علم کے مطابق فلاں وقت سے یہ لٹریچر تقسیم ہورہا ہے اور ہمارے بچوں کے دماغوں پر برا اثر پڑ رہا ہے یعنی اگر وہ اس سے منفی رنگ میں متاثر نہیں بھی ہوئے تو تکلیف کا اثر تو ضرور پڑتا ہے۔بے چینی پیدا ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں ایسی باتیں کی جارہی ہیں ہماری طرف سے کیا جواب ہے تو ایسی اطلاع ملنے پر جب میں نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ واقعہ یہ بات درست ہے اور وہ بات یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائیوں سے مناظروں کے دوران جہاں ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر سختی کی گئی ہے اور آپ کی گویا ہتک کی گئی ہے۔ان الفاظ کو سیاق وسباق سے نکال کر اس طرح پیش کیا گیا کہ جس کے نتیجہ میں بہت ہی غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں حضرت مسیح کی کوئی بھی عزت نہیں تھی بلکہ آپ ان کو یہ اور یہ اور یہ اور یہ سمجھتے تھے اور الفاظ ایسے ہیں جن سے واقعۂ طبیعت ایک دفعہ مکدر ہو جاتی ہے کہ اگر مسیح واقعی نعوذ باللہ ایسے خوفناک شخص تھے تو بی اللہ تو درکنار وہ ایک عام شریف انسان کہلانے کے مستحق بھی نہیں رہتے۔یہ تاثر ہے جو قائم کیا جاتا ہے اور قائم کیا جارہا تھا اور مہینوں گزر گئے لیکن جماعت انگلستان کو یہ خیال نہیں آیا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم فوری طور پر معلوم کریں کہ ان باتوں کا جواب کہاں پہلے سے موجود ہے۔اگر نہیں ہے تو فوری طور پر اس کا جواب تیار کر وایا جائے اور تقسیم کر وایا جائے۔چنانچہ میں نے پھر اس کا جواب لکھوایا اور حضرت مسیح کی ہتک کا الزام‘ کچھ اس قسم کا اس کا عنوان ہے اور اسے پھر با قاعدہ شائع کروایا۔میں نہیں جانتا کہ ابھی تک جماعت انگلستان نے اس کا انگریزی ترجمہ کر کے تقسیم کرایا ہے کہ نہیں۔مگر جب اس کا جواب آپ پڑھتے ہیں تو صورت حال بالکل برعکس ہو جاتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا احترام پہلے کی نسبت کئی گنا دل میں بڑھ