خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 898
خطبات طاہر جلد ۱۰ 898 خطبہ جمعہ ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء لیکن اگر سفر سے پہلے آپ کو یقین ہی نہ ہو ، سفر سے پہلے آپ یہ سمجھتے ہوں کہ ہمارا کہ دینا فرض ہے مگر یہی ہوتا رہتا ہے۔جب سے ہم نے دیکھا اسی طرح لوگ سنتے بھی ہیں اور بھول بھی جاتے ہیں۔یاد کرانے والے یاد بھی کراتے ہیں اور پھر غافل ہو جاتے ہیں اور بالآخر وہی روئیداد جو پہلے رونما ہوا کرتی تھی وہی رونما ہوتی رہے گی۔یہ نتیجہ جب آپ نے پہلے نکال لیا تو آپ نے اپنی ناکامی کا نتیجہ نکالا ہے۔آپ کا Blue Print بیمار ہے بیج ناقص نہیں۔آپ کے دماغ کا پیچ بانجھ ہو گیا ہے۔اس لئے بڑے کھلے دماغ کے ساتھ واقعہ اور تیز نگاہ کے ساتھ اس بات کو خوب اچھی طرح دیکھ لیں کہ کون سا سفر آپ اختیار کرنے والے ہیں اور آپ کے اعلیٰ مقاصد کیا ہیں اور پھر اگر آپ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں یہ ناممکن نہیں ہے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ ناممکن نہیں رہیں گے۔وہی مقولہ صادق آتا ہے انگریزی کا محاورہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہتے ہیں کہ ایک شخص کو علم نہیں تھا کہ جو میں کام کرنے لگا ہوں یہ ناممکن ہے پس وہ آگے بڑھا اور اس نے اس کو کرلیا۔یہ ناممکن ہونے کا احساس بڑی بیماری ہے۔یہ سب سے بڑا مرض ہے جو تمام منصوبوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔آپ بظاہر ناممکن نہ بھی کہیں اور سرتسلیم خم کر دیں کہ ہاں جی ! ہم نے آپ کی نصیحتیں سن لی ہیں تو احمدیوں میں خدا کے فضل سے یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک سے دو ہو سکتے ہیں۔یہ کہہ کر آپ بظاہر تائید کر سکتے ہیں لیکن عملاً آپ کے دل کی سوچ کے اندر یہ مرض موجود ہوگا کہ ٹھیک ہے جی ، اسی طرح ہوتا آیا ہے کیسے ہو سکتا ہے یہ تو خیالی باتیں ہیں۔آئیڈیل باتیں ہیں کبھی عملی دنیا میں ہوئی نہیں اس لئے ٹھیک ہے کوشش کریں گے۔ہوگا تو وہی جو پہلے ہوتا رہا ہے تو آپ نے اپنی تمناؤں کی جڑوں پر ابھی سے تبر رکھ دیا۔جو تمنائیں ہی مر جائیں ان کے آگے اس کے نتیجے کیسے پیدا ہو سکتے ہیں۔اس لئے جاگیں اور بیدار ہوں اور یقین کریں کہ خدا تعالیٰ نے جیسے دنیا کے نظام میں اکثر بیجوں میں پھولنے پھلنے کی صلاحیت رکھی ہوتی ہے، اکثر انسانوں کو یہ صلاحیت بخشی ہے کہ وہ صحیح طریق اختیار کریں تو خدا ان کو اولاد عطا کرے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت بھی گزشتہ انبیاء کی جماعتوں کی طرح بالعموم یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ پھولے پھلے اور دنیا میں ایک انقلاب عظیم برپا کر دے اور اتنے وقت میں کرے کہ اس انقلاب کے دوران وہ آپ بیمار نہ ہو چکی ہو۔وہ امتیں جن کو پھل دیر سے لگتے ہیں، بہت لمبے عرصے بعد لگتے ہیں ان کی نشو و نما بعض