خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 897 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 897

خطبات طاہر جلد ۱۰ بھی صادق آئے گا۔897 وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جوسنا افسانہ تھا خطبہ جمعہ ۱۵ نومبر ۱۹۹۱ء پس اس خواب کو حقیقت میں بدلنا ہے۔یہ مقصد ہے اس کے لئے عزم کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ایک چیلنج کو قبول کرنے کی ضرورت ہے اس فیصلے کی ضرورت ہے کہ ہم نے بہر حال تبدیلی کرنی ہے اور اس یقین کی ضرورت ہے کہ جو جماعت آپ کو میسر ہے اس میں اس بات کی صلاحیت موجود ہے، ہر احمدی میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک سے دواور دو سے چار ہو۔بیج خراب نہیں ہیں۔بیچ صحیح استعمال نہیں ہور ہے یا جس طرح ان میں بعض دفعہ پڑے پڑے بوسیدگی سی پیدا ہو جاتی ہے۔ایسی کیفیت ہوگی لیکن بیجوں میں اُگنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے۔دنیا میں جو قانون قدرت ہمیں دکھائی دیتا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ کچھ لوگ بانجھ تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اکثریت بانجھ نہیں ہوا کرتی۔اکثریت میں پنپنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔پس اگر اکثریت بانجھ نظر آئے تو خدا تعالیٰ کے قانون پر حرف رکھنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔ہرگز ایسی جرات نہ کریں۔آپ کو یقینا یہ سوچنا چاہئے اور یہ نتیجہ نکالنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے بیج تو ہمیں اچھے دیئے تھے لیکن ہماری غفلت سے ان بیجوں کو کچھ ایسی بلا چمٹ گئی ہے یا کچھ ایسا و بال لگ گیا ہے کہ جس کے نتیجہ میں وہ پھوٹ نہیں رہے اور نشو و نما اختیار نہیں کر رہے۔تو یہ ایک سفر سے پہلے کا لازمی نتیجہ ہے جو سفر سے پہلے آپ کو نکالنا ہو گا ور نہ سفر کے بعد جو نتیجہ نکلنا چاہئے وہ نہیں نکلے گا اور یہ نکتہ بھی آپ کو خوب سمجھنا چاہئے کہ ہر سفر کے آغاز پر اس کا نتیجہ پہلے نکل جایا کرتا ہے۔اس کو سائنس کی اصطلاح میں Blue Print کہتے ہیں اور قرآن کریم نے بھی اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے اور احادیث نے بھی اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے کہ کائنات کی پیدائش سے پہلے انسان کا Blue Print موجود تھا۔حضرت محمد مصطفی ﷺ Blue Print خدا کے علم میں موجود تھا اور اس کی تقدیر میں موجود تھا۔پس نتیجہ وہی نکلتا ہے جو پہلے آغاز میں نکالا جا چکا ہو۔پس اگر آپ نے تبلیغی کوششوں کے لئے ایک مکمل نظام اپنے ذہن میں رکھا اور پورے عزم کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ اپنے خیالی ڈھانچے کو عملی جامہ ضرور پہنا کر چھوڑیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی یہ کوششیں ضرور نتیجہ خیز ہوں گی