خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 883
خطبات طاہر جلد ۱۰ مطابق بلانے والے ہیں۔883 خطبہ جمعہ ۸/ نومبر ۱۹۹۱ء پس یہ وہ پہلو ہے جو ہمیں علمی تیاری کی طرف متوجہ کرنے والا ہے لیکن بالعموم میں نے دیکھا ہے کہ لوگ تو پوری طرح دعا نہیں کرتے جیسی لگن کے ساتھ دعا ہونی چاہئے ، اپنے مقاصد کے لئے اور اپنی مرادیں پانے کے لئے تو دل سے بڑی طاقت سے دعا اٹھتی ہے اپنی ناکامیوں پر حسرت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف طبیعت مائل ہوتی اور اس سے مدد چاہتی ہے اور اس سے سہارے ڈھونڈتی ہے لیکن تبلیغ کے معاملہ میں یہ سنجیدگی نہیں ہے۔دعا میں وہ بے قراری نہیں ہے۔اکثر لوگوں کے دل میں نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس کے بعد پھر تبلیغ کیسے پھل لا سکے گی کیونکہ تبلیغ کا آغاز ہی دعا سے ہوتا ہے اور اس کے بغیر تبلیغ کوئی معنی نہیں رکھتی، کوئی معنی خیز سفر نہیں کرسکتی، کوئی معنی خیز نتائج پیدا نہیں کر سکتی تو زبانی پیغام پہنچا نا کام نہیں ہے۔پھر آگے حکمت کا مضمون ہے اور بہت تفصیل کے ساتھ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔میں نے آج تک بیسوں مجالس میں اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔ایسی بھی مجالس ہیں جن کی کیسٹس موجود ہیں اور ممکن ہے پچپیں تھیں چالیس گھنٹے اس مضمون کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہو۔اس میں حکمت کا مضمون ایک مبلغ کو سمجھانے کے لئے میں نے حتی المقدور پوری کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود جب بھی میں غور کرتا ہوں کوئی نہ کوئی نیا نکتہ پھر ایسا دکھائی دیتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مضمون ختم ہونے والا مضمون نہیں ہے۔اس رنگ میں کتنے ہیں جو غور کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔یہ داعی الی اللہ جس کی جماعت کو ضرورت ہے۔ایک دعا گو داعی الی اللہ جو ہمیشہ اپنے اعمال کا نگران ہو اور محاسبہ کر نیوالا ہو، جو ہمیشہ عاجزی اور انکسار کے ساتھ جب بھی اپنے اعمال کی کمزوریوں پر نگاہ پڑے ان کمزوریوں کو خدا کے حضور اس التجا کے ساتھ پیش کرنے والا ہو کہ جو چاہتا ہے کر گزر مگر ان داغوں کو مٹادے۔ان کمزورریوں کو دور فرمادے۔وہ جس کے نیک اعمال اس کی موعظہ حسنہ کو حسین بنارہے ہیں اور ان میں ایک عظیم الشان جذب پیدا کر رہے ہوں جو بار بار کبھی دعا کی طرف متوجہ ہو، کبھی اعمال کی طرف پھر اعمال کو دعا کے ساتھ ملا کر مختلف کروٹیں بدلتا ہوا مختلف پہلو اختیار کرتا ہوا اللہ تعالیٰ کے ساتھ لیٹے ہوئے بھی اور اٹھتے ہوئے بھی اور چلتے ہوئے بھی دعاؤں کے ذریعہ خدا سے سہارے مانگ رہا ہو۔