خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 882 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 882

خطبات طاہر جلد ۱۰ 882 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء میں پہنچ گئے ہیں۔وہ ہر طرح زور لگاتے ہیں کہ اس حالت سے نکلیں مگر نکل نہیں سکتے اور بعض دفعہ ان کو طبیبوں کی ضرورت پڑتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ اس مرض سے چھٹکارہ حاصل کریں مگر نہیں چھٹکارہ حاصل کر سکتے۔طبیبوں کی طرف دوڑتے ہیں اور اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں کہ ہاں مجھ سے جو چاہو کرو مگر میری اس حالت کو بدل دو۔پس خدا کے حضور ایسے اعمال سے چھٹکارے کے لئے جب انسان کو دعا کرنی ہو تو اپنے آپ کو پیش بھی کرنا ہوگا۔اور یہاں قبولیت دعا کا یہ راز ہے جس کو سمجھے بغیر اگر دعا کریں گے تو قبول نہیں ہوگی۔وہ مرض جس سے نفرت ہے اس مرض سے نفرت کی حد تک تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ تمہیں نفرت ہے لیکن اس کے باوجود اس سے ایک تعلق بھی قائم ہو چکا ہے اور وہ تعلق بعض دفعہ ایسا گہرا اور ایسا مجبوری کا تعلق ہو جاتا ہے کہ انسان سچے دل سے یہ بھی دعا نہیں کر سکتا کہ مجھے اس سے چھٹکارا نصیب ہو جائے یعنی جس مرض میں مبتلا ہے اس سے چھٹکارے کے لئے دعا بھی کرتا ہے مگر دعا میں گہری صداقت نہیں پائی جاتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ٹول کر اپنے آپ کو خدا کے سپر دنہیں کرتا ، پیش نہیں کرتا اور یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ اے خدا بہت تلخ معاملہ ہے میں جانتا ہوں کہ اس بات کو چھوڑ نا میرے لئے سخت تلخی کی زندگی کو قبول کرنا ہوگا اور میری اچھی طرح نظر ہے۔پھر بھی میں اپنے وجود کو تیرے حضور پیش کر دیتا ہوں جو چاہے کر گزر مجھے اس بیماری سے نجات بخش دے۔اس کامل خلوص اور یقین اور گہرے علم کے ساتھ اگر دعا کی جائے تو وہ ضرور مقبول ہوتی ہے۔تو حکمت کا یہی مضمون بار بار کروٹیں بدلتا ہے کبھی دعا کی طرف مائل ہوتا ہے، پھر دعا سے منعکس کا یہی مضمون بار بار کروٹیں بدلتا ہے کبھی دعا کی طرف مائل ہوتا ہے، پھر دعا سے منعکس ہو کر عمل کی دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے پھر انسان عمل میں اپنے نقائص تلاش کرتا ہے پھر بداعمالیوں سے چھٹکارے کے لئے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر دعائیں کرتا ہے اور اس کے بعد بالآخر اپنی کیفیت پر صبر کے بعد جب دیکھتا ہے کہ مد مقابل کسی طرح سننے پر آمادہ نہیں اور نیک نصیحتیں کارگر نہیں تو پھر دلائل کو بھی استعمال کرتا ہے پھر جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا مضمون بھی شروع ہو جاتا ہے لیکن یہ سب سے آخر پر ہے لیکن اس کے لئے تیاری بھی ضروری ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آخر ایک وقت بات مجادلے تک ضرور پہنچنی ہوالا ماشاء اللہ اور آپ اس کی تیاری نہ کریں اور پھر دعوی کریں کہ ہم خدا کی طرف قرآنی تعلیم کے