خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 870 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 870

خطبات طاہر جلد ۱۰ 870 خطبہ جمعہ ۸/نومبر ۱۹۹۱ء پیش کرو کیونکہ مقصد دل جیتنا ہے نہ کہ لوگوں کو شکست دینا۔پس یہ وہ اول اور حقیقی جہاد ہے جس کی طرف قرآن کریم ہر مومن کو بلاتا ہے اور اس جہاد کے اسلوب سے بڑے واضح طور پر آگاہ فرماتا ہے۔وہ ہتھیار بھی بیان کر دیئے جو اس جہاد میں استعمال ہوں گے۔اس آیت کریمہ کے علاوہ اسی مضمون پر اور بھی آیات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تبلیغ کے لئے صبر کی بڑی ضرورت ہے حکمت کے علاوہ دعاؤں کی بڑی ضرورت ہے۔چنانچہ انبیائے کرام کے طریق تبلیغ کو جو قرآن کریم نے کھول کر بیان فرمایا اس میں دعاؤں کا مضمون بھی ساتھ ساتھ اس طرح شامل ہے جیسے زندگی کے ساتھ سانس شامل ہو اور یہاں حکمت کے لفظ کو تو اختیار فرمایا۔وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ کا ذکر کیا اور وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا ارشاد ہوا لیکن دعا کا ذکر نہیں۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ حکمت کے اندر سب سے پہلے دعا آتی ہے کیونکہ حکمت سے مراد یہ ہے یعنی مختلف معانی لفظ حکمت کے ہیں لیکن اس مضمون سے تعلق میں خصوصیت کے ساتھ حکمت کے یہ معنی ہیں کہ تم اپنے مقصد کو کم سے کم کوشش، کم سے کم نقصان کے ذریعے ، زیادہ سے زیادہ احسن رنگ میں حاصل کرو۔دراصل ہر جگہ، زندگی کے ہر شعبہ پر حکمت کا یہی مضمون اطلاق پاتا ہے۔وہ کام جو کم سے کم کوشش ، کم سے کم جدو جہد کے ذریعہ کرنے کی کوشش کی جائے لیکن شرط یہ ہو کہ زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل ہوں۔پس کم سے کم کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ کا نتیجہ کرے گا۔اگر زیادہ سے زیادہ نتیجہ حاصل کرنے کے لئے زیادہ محنت درکار ہے تو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ پھر زیادہ محنت کی جائے مگر بے ضرورت محنت نہ کی جائے اور بے کار محنت نہ کی جائے، ایسی کوشش نہ کی جائے جو نتیجہ خیز نہ ہو اور جو مضمون سے بے تعلق ہو۔اس سلسلہ میں چونکہ مومن کی ہر تدبیر کارگر ہونے کے لئے دعا کی محتاج رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی اس لئے حکمت کے لفظ میں سب سے پہلے دعا کا مضمون شامل ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ نے جو عظیم الشان انقلابی فتح اپنے مد مقابل پر حاصل فرمائی اور گنتی کے چند سالوں میں یہ حیرت انگیز بے مثل معجزہ کر دکھایا کہ سارے عرب کی کایا پلٹ دی ایسے مخالف اور جاہل عرب کی کا یا پلٹ دی جو کلیہ متحد ہو کر آپ کو اور آپ کے پیغام کو صفحہ ہستی سے مٹادینے پر تلا بیٹھا تھا، ایسا عجیب انقلاب وہاں برپا ہوا کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ ولى حَمِيم (تم السجده: ۳۵)