خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 841 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 841

خطبات طاہر جلد ۱۰ 841 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء تعداد پہنچ چکی ہے بعد میں مجھے بھی اس ملک کے دورہ کا موقعہ ملا لیکن میرے اندازے کے مطابق پانچ لاکھ کے لگ بھگ تعداد تھی۔تو اندازوں میں فرق ہوتا ہے لیکن جہاں تک میں نے اس گفتگو سے اندازہ لگایا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو پورا یقین تھا کہ یہی تعداد ہے اور نعوذ بالله من ذالك اس میں کسی مبالغہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چونکہ مقام ادب یہ تھا کہ اس کے بعد میں زبان نہ کھولتا اس لئے اس موضوع پر پھر کبھی میں نے کسی سے گفتگو نہیں کی۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمۃ اللہ تعالیٰ کا وصال ہوا اور خلافت کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈالی گئی تو مجھے اکثر بیرونی ممالک میں دورہ کے وقت اس سوال کا سامنا ہوا اور میرے لئے اس وقت یہ ایک بہت ہی مشکل مسئلہ تھا کہ جہاں تک گزشتہ خلیفہ کی طرف سے اعلان کا تعلق ہے میرا یہ مقام نہیں تھا کہ میں اس کے خلاف کوئی رائے ظاہر کرتا اور جہاں تک میرے اپنے تخمینہ کا تعلق تھا میں کم سمجھا کرتا تھا اس لئے ان دونوں مسائل کے دوران سے ہمیشہ میں نے بچے گریز کی راہ یہ اختیار کی کہ جب کبھی کسی سوال کرنے والے نے سوال کیا تو میں نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں ساری دنیا کے احمدیوں کی تعداد کا تخمینہ نہ لگا سکا ہوں نہ یہ کسی کے لئے ممکن ہے کہ حقیقت یہ تخمینہ لگا سکے کیونکہ اس کی راہ میں بہت سی مشکلات ہیں لیکن مجھ سے پہلے خلیفہ نے ایک تخمینہ پیش کیا تھا جو ایک کروڑ کا تھا اور یہی تخمینہ ہے جو جماعت میں رائج ہے اور جب بھی سوال کرنے والے نے مزید کریدا اور میرے ذاتی اندازے کے متعلق گفتگو کی تو میں نے ہمیشہ بلاتر درد یہ بتایا کہ میرے خیال میں اس سے کم ہے لیکن مشکل یہ پیش آئی که چونکه با قاعدہ طور پر میں اس مقام پر نہیں تھا اور عملاً میرے لئے ممکن بھی نہیں تھا کہ پہلے تخمینے کے متعلق جانچ پڑتال کر کے اس کی تصحیح کر سکتا اس لئے جماعت میں ہر جگہ ایک کروڑ کی تعدا در انج ہو گئی۔اس پر مزید یہ مشکل پیش آئی کہ بہت سے لوگوں نے اندازہ لگایا کہ اگر ۲۰ سال پہلے ایک کروڑ تعداد تھی تو اب سوا کروڑ ہو گئی ہوگی اور بعضوں نے اس کو ڈیڑھ کروڑ بھی کر دیا اور یہ اعداد و شمار جب شائع ہونے شروع ہوئے تو جماعت کے لئے بڑی الجھن کا سامنا تھا کہاں ایک کروڑ پھر ڈیڑھ کروڑ ، پھر دشمن کی طرف سے تعداد بہت ہی کم تو واقعہ بہت سے ممالک کے احمدیوں کے لئے یہ ایک بہت ہی مشکل مسئلہ بن گیا۔اب میں آپ کو مختصر ابنا تا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اندازے