خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 840 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 840

خطبات طاہر جلد ۱۰ 840 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء تھوڑی کر کے دکھائی گئی اور اس ذکر کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اس وقت تمہیں بھی تم سب کو وہ تھوڑے دکھائی دیئے۔وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ اور خدا ان کی نگاہوں میں تمہیں تھوڑا دکھا رہا تھا۔لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً تا کہ خدا تعالیٰ اس معاملے کا فیصلہ صادر فرمادے جس نے ہو کر رہنا تھا۔جو مقدر ہو چکا تھاوَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الأمور اور خدا ہی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں۔ان آیات کا تعلق مسلمانوں کی تعداد اور اس کے مقابل پر دشمن کی تعداد سے ہے اور اس کا اس رنگ میں دکھایا جانا کہ دونوں ایک دوسرے کو اپنے سے کم دیکھ رہے تھے۔ان آیات کا انتخاب میں نے اس لئے کیا ہے کہ آج میں جماعت کی تعداد کے مسئلہ پر گفتگو کروں گا اور بہت سے غلط خیالات جو پھیلے ہوئے ہیں بہت سے اعتراضات ہیں جو اس سلسلہ میں کئے جاتے ہیں اور بے یقینی کی بعض کیفیات ہیں اس لئے ضرورت سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر ضرور کچھ نہ کچھ کہا جائے۔کچھ عرصہ پہلے مجھے ہندوستان سے کانپور سے بھی ایک خط ملا۔اس میں یہ ذکر تھا کہ دشمن ابھی تک ہمیں بہت ہی تھوڑا بتاتا ہے اور جہاں تک جماعت احمدیہ کا دعوی ہے کہیں ہم ایک کروڑ کی تعداد لکھے ہوئے دیکھتے ہیں، کہیں ڈیڑھ کروڑ کی تعداد بھی سنائی دیتی ہے اس لئے عجیب ابہام کی سی کیفیت ہے اس سلسلہ میں ضرور روشنی ڈالیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ایک کروڑ کی تعداد کا آغاز حضرت خلیفہ مسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ کے ایک جلسہ کے موقع پر ایک اعلان سے ہوا غالبا ۲۰ سال یا اس سے کچھ زائد عرصہ کی بات ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جلسہ سالانہ پر احمدیوں کی تعداد کے متعلق اپنا تخمینہ ایک کروڑ کا بتایا تھا۔اس سے پہلے ایک مرتبہ ایک نجی محفل میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جماعت کی تعداد کے متعلق جو اندازہ بتایا اس پر میں نے مودبانہ یہ عرض کیا کہ میرے نزدیک اس سے بہت کم ہے جتنی آپ کا اندازہ ہے۔آپ نے اس بات کو قبول نہیں کیا اور تفصیل سے مجھے یاد نہیں کیا دلائل پیش فرمائے لیکن مجھے اس ساری گفتگو کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ بہت سی جماعتیں خصوصاً بیرونی ممالک اور پاکستان میں بعض اضلاع کی جماعتیں حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں جب جماعت کے اندازے پیش کرتی ہیں تو پوری احتیاط سے کام نہیں لیتیں۔ایک ملک کے متعلق مجھے یاد ہے کہ اس کے ذکر میں آپ نے فرمایا کہ وہاں دس لاکھ کی