خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 819
خطبات طاہر جلد ۱۰ 819 خطبہ جمعہ ارا کتوبر ۱۹۹۱ء آجائے گا تو یہ بھی نا پسندیدہ بات ہے قرض کے دو پہلو ہیں۔ایک دینے والے کا ایک لینے والے کا۔وہ قرض جو سود سے پاک ہے اسے قرضہ حسنہ کہا جاتا ہے قرضہ حسنہ میں یہ ایک عجیب دلچسپ بات ہے کہ دینے والا ہر گز زیادہ لینے کی نیت سے نہیں دیتا۔لینے والا ہمیشہ زیادہ دینے کی نیت سے لیتا ہے اس لئے اپنی نیتوں کو زیادہ کے خیال سے پاک رکھ کر اگر دینے کی کوشش کریں تو یہ چندے کی بہت بہتر قسم ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی زیادہ رضا حاصل ہوگی۔جہاں تک زیادہ ملنے کا تعلق ہے وہ تو خدا نے دینا ہی دینا ہے اور اس کے دینے کے ہزاروں رستے ہیں کہ انسان کو سمجھ نہیں آتی اور ضرور ایسے لوگوں کے اموال میں برکت پڑتی ہے اور ان کی اولادوں کے اموال میں برکت پڑتی ہے ان کی خوشیوں میں برکت پڑتی ہے، ابتلاؤں سے بچائے جاتے ہیں، مصیبتوں کے وقت ان کے سہارے کے لئے خدا تعالیٰ کی نصرت اترا کرتی ہے۔یہ ساری برکتیں ہیں جو چندوں کے نظام کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن چونکہ بہت باریک مضامین ہیں اس لئے جہاں تک مجھے توفیق ہے میں بار یکی کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں خدا ضر ور زیادہ دیتا ہے لیکن قرضہ حسنہ کی ایک تعریف یہ ہے کہ جہاں تک دینے والے کا تعلق ہے وہ ہرگز زیادہ لینے کی نیت سے نہ دے اور اپنی نیت کو بالکل صاف کر کے دے۔اس پہلو پر قرآن کریم کی ایک اور آیت روشنی ڈالتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدر: ۷ ) کہ کسی کو اس نیت سے نہ دیا کرو کہ تمہیں زیادہ ملے اگر چہ اس کا انسانی لین دین سے تعلق ہے اور اللہ تعالیٰ پر تو احسان ہو ہی نہیں سکتا۔تمنن کے معنوں کا اطلاق خدا پر نہیں ہوسکتا لیکن مومن کے اخلاق کو صیقل کرنے کے لئے اس کے اخلاق کو نہایت اعلیٰ درجے کی لطافتوں تک پہنچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے جو یہ نصیحت فرمائی ہے اس کے نتیجے میں خدا سے لین دین کے معاملات میں بھی اپنے اندر ویسے ہی اخلاق پیدا کریں جیسے خدا بندوں کے معاملات میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور دیتے وقت یہ نیت کیا کریں کہ اے خدا! ہم زیادہ لینے کی نیت سے نہیں دے رہے بلکہ حق یہ ہے کہ سب کچھ تیری عطا ہے۔اگر تحفے کے طور پر قبول ہو تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں لیکن تو نے قرض فرمایا ہے تو تجھ سے بہتر محفوظ ہاتھ قرض دینے کیلئے اور کوئی نہیں ہے ہماری نیت تیری رضا کا حصول ہے اور اس نیت کیسا تھ اگر انسان چندے دے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے اخلاص،اس کے ایمان اس کے اعلیٰ روحانی مدارج کی یہ باتیں ضامن بن جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کے