خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 818
خطبات طاہر جلد ۱۰ 818 خطبہ جمعہ ارا کتوبر ۱۹۹۱ء خدا کی خاطر ز کوۃ ادا کرتا ہے اللہ اسے بڑھا دے گا اور زکوۃ کے نام میں یہ مضمون شامل ہے۔زکوۃ کا مطلب ہے نشو و نما پانے والی چیز ، بڑھنے والی چیز ، برکت پانے والی چیز تو فرمایا کہ جو روپیہ تم خدا کی خاطر زکوۃ ادا کرتے ہو وہ کم نہیں ہوتا بلکہ تمہیں علم نہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالتا ہے اور اس کو بڑھا دیتا ہے اور قرض کے متعلق ہر جگہ یہ وعدہ فرمایا کہ تم مجھے قرضہ دو اور میں بڑھا دیتا ہے۔میں بڑھا کر واپس کروں گا۔اس لئے کسی رنگ میں بھی خدا تعالیٰ کے اوپر احسان کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر چندہ ادا ئیگی کرتے وقت قرض کے مضمون کے اندر جو ہدا یتیں ہمیں ملی ہیں ان کو ہمیں ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے۔پہلی بات یہ کہ خدا جب قرض مانگتا ہے تو ایک انسان کو اپنے نفس میں ڈوب کر ضرور سوچنا چاہئے کہ کس چیز سے قرض مانگتا ہے۔وہ سب کچھ جو اس نے مجھے دیا ہے اور اس پر جو مجھ سے قرض مانگتا ہے تو میں قرض کے طور پر نہ دوں بلکہ محبت اور عشق کے اظہار کے طور پر دوں یہ منع نہیں ہے۔اس لئے قرض کے سودوں کو اگر آپ محبت اور عشق کے اظہار کے سودوں میں تبدیل کر دیں تو اس سے بہتر کوئی اور طریق چندہ ادا کرنے کا نہیں۔اس نیت کے ساتھ ادا کریں کہ اے خدا ! سب کچھ تو نے دیا ہے تیرے حضور، تیرے رزق میں سے، تیری عطا کردہ صلاحیتوں میں سے کچھ پیش کرنے کی سعادت پاتا ہوں وہ قبول فرمائے تو یہ عزت ہے قرض نہیں ہے تحفہ ہے لیکن اس کے باوجود اگر ایک شخص اس اعلیٰ محبت کے مقام پر فائز نہیں اور جب دیتا ہے تو تکلیف اور قربانی کے ساتھ خدا کے اذن کے احترام میں دیتا ہے تو وہ قرض ہوگا لیکن یا درکھنا چاہئے کہ یہ قرض اسے واپس ملے گا اور بہت زیادہ واپس ملے گا۔اس وعدے کے نتیجہ میں جو نیتوں پر بعض اثرات پڑ سکتے ہیں ان کے متعلق میں چند الفاظ میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں۔بعض لوگ جن کو خدا تعالیٰ ان کی مالی قربانیوں کے نتیجہ میں بار بارعطا کرتا ہے اس بات کے عادی ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ادھر دیا ادھر ہمیں واپس ضرور مل جائے تو گا اس کے نتیجہ میں ان کے چندوں کے جیسے اعلیٰ اثرات پیدا ہونے چاہئیں ان کی ذات پر وہ اعلیٰ اثرات مترتب نہیں ہوتے ، وہ ظاہر نہیں ہوتے۔بعض دوست مجھے اپنے تجربے لکھتے ہیں۔بڑے ایمان افروز ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اگر اسے کوئی انسان مستقل عادت بنالے اور یہ سمجھے کہ ادھر میں نے خدا کے حضور پیش کیا ادھر واپس