خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 808
خطبات طاہر جلد ۱۰ 808 خطبہ جمعہ اارا کتوبر ۱۹۹۱ء میں یہ لکھتا ہو کہ ساری جماعت کے یہی خیالات ہیں اور اس کے باوجود خطوط یہ ملیں کہ ہمارے خواب و خیال میں بھی کبھی یہ بات نہیں آئی نہ کبھی ہم نے سنی تو عجیب سی عاملہ تھی جو انتہائی خفیہ سازش کے طور پر بند کمروں میں باتیں کرتی تھی اور جماعت کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔تعجب انگیز ہے لیکن ہمارا یہ حق نہیں ہے کہ اس کے باوجود کوئی شخص حلفاً یا کھلے کھلے اقرار کے ساتھ یہ بات کہے کہ میرے علم میں یہ بات نہیں تھی اس لئے میں نے احتجاج نہیں کیا تو ہم اس پر بھی یہ سزا عا ئد رکھیں اس لئے میں یہ اعلان کر دیتا ہوں کہ وہ سب احباب جماعت مالموجن کے علم میں یہ بات نہیں آئی یا وہ مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شامل نہیں تھے اور بالعموم ان کا رجحان اس قسم کا نہیں ہے ان کو بھی سزا سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ایک اور بات یہ کہ اگر دنیا پر یہ تاثر پڑا ہے کہ مالمو کی ساری جماعت نعوذ باللہ گندی ہے تو یہ درست نہیں ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا بہت سے مخلصین ہیں۔بہت سے ایسے نو جوان ہیں جن کے اخلاص میں کوئی شک نہیں۔جب ان کے علم میں یہ بات آئی تو انتہائی کراہت کے ساتھ انہوں نے دیکھا اور اپنے رشتوں کی بھی پرواہ نہیں کی اور بلا دھڑک ان امور کے خلاف جذبات کی بڑی شدت کے ساتھ احتجاج کیا ہے۔تو بعض لوگوں کی غلطی سے بعض دفعہ سزا تو ایک رنگ میں سب کو ہی ملتی ہے لیکن ہر ایک کا مجرم ہونا ضروری نہیں ہے اور قرآن کریم نے اس مضمون کو ایک اور جگہ کھولا ہے کہ اس دن کے عذاب سے ڈرو جب معصوم بھی ساتھ پیسے جائیں گے۔تو بعض تکلیفیں ہیں وہ ہر ایک کو پہنچتی ہیں۔یہ ایک قانون قدرت ہے بعض اس قسم کی تکلیفیں ہیں جن میں معصوم بھی ساتھ پیسے جاتے ہیں لیکن غلطیاں بعض کی ہوتی ہیں لیکن سزا کے لحاظ سے وہ عقوبت کے مستحق اور سزا وار نہیں ہوتے۔یہ سزا ایک طبعی قانون کے طور پر چلتی ہے مگر یہ کہ نعوذ باللہ خدا ان سے ناراض ہو یہ بات درست نہیں اس لئے کثرت سے ایسے لوگ وہاں ہوں گے جن سے خدا ناراض نہیں جن کے تقویٰ کے متعلق کوئی شک نہیں ، جو اخلاص کے ساتھ سلسلہ سے تعلق رکھنے والے ہیں ان سب کو بحیثیت جماعت مالمو کے رد کر دینا یا ان کو مطعون کرنا یہ درست نہیں ہے۔علاوہ ازیں سویڈن میں بھی بحیثیت جماعت بڑی بڑی قربانی کرنے والے لوگ ہیں۔ماشاء اللہ گوٹن برگ سے جماعت مالمو نے ایک قسم کی رقابت کا مضمون شروع کر رکھا تھا وہاں