خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 807

خطبات طاہر جلد ۱۰ 807 خطبہ جمعہ اارا کتوبر ۱۹۹۱ء نہیں ہے۔اگر قے بھی ہے تو معنوی لحاظ سے اس کے لئے قے ہے جو مانگتا ہے مگر جور و پید ایک دفعہ سلسلے کو دے دیا جائے اس کو واپس لینے کا کوئی حق نہیں ورنہ مالی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔چندہ واپس کر دینا یا آئندہ نہ لینا اس کی سند الگ احادیث میں موجود ہے اور ایسے اقدامات ہمیشہ سزا کے طور پر کئے گئے ہیں نظام جماعت میں بھی تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ ناراضگی اور سزا کے اظہار کے طور پر ایسا کیا گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی بات ہے کہ اس طرح سزا کے نتیجہ میں ایک شخص ساری زندگی عذاب میں مبتلا رہا لیکن پھر بھی اس سے روپیہ وصول نہیں کیا گیا۔تو یہ مضمون در اصل اس حکمت سے تعلق رکھتا ہے اسے دوسرے امور پر کھینچ کر اس کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے۔دوسری بات وضاحت طلب یہ ہے کہ مجلس عاملہ نے ایک بات کی ،اس کی سزا جماعت کو کیوں ملے؟ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ بعض دفعہ جب ایک قوم کے راہنما کوئی خطرناک غلطی کرتے ہیں تو قوم بھی اس کے ساتھ سزا پاتی ہے۔اہل مدینہ میں سے ایک بد بخت نے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کیا تھا اور اس کے نتیجہ میں جب آنحضور ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا تو اہل مدینہ ذبح کئے ہوئے جانوروں کی طرح تڑپ رہے تھے اور بار بار عرض کرتے تھے کہ یا رسول اللہ! ہمارا قصور نہیں۔ہم نے تو نہیں کہا۔اس بدبخت نے کہا ہے مگر آنحضو ر ہے اس ناراضگی کے اظہار میں رکے نہیں۔پس بعض دفعہ کسی قوم کی بدنصیبی ہے کہ اس کے راہنما، اس کے چنیدہ لیڈر ایسی بدبختی کی بات کر دیں جس کا آزار سب کو پہنچے اور سب کو اس سے تکلیف ہو لیکن یہ ایک ایسی تکلیف ہے جس میں صرف وہ لوگ شریک نہیں ہیں جن کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے بلکہ خود میں بھی شریک ہوں کیونکہ میرے لئے ایسے احمدیوں کے متعلق جو کسی رنگ میں بھی اس معاملہ میں ملوث نہ ہوں یہ فیصلہ کرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ ان کا چندہ لوٹا یا جائے۔چنانچہ گزشتہ ایک ہفتہ بہت تکلیف کی حالت میں بار بار دعا بھی کی ، استغفار بھی کیا اور وہاں سے آئے ہوئے احتجاجات کا بھی مطالعہ کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ باقی جماعت میں سے جن کے متعلق یہ علم ہو کہ ان کو اس بات کا کوئی علم نہیں تھا ان کے اوپر اس فیصلہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ان کے لحاظ سے یہ فیصلہ منسوخ ہے لیکن یہ ہے تعجب انگیز بات کہ ساری عاملہ ایک بات پر متفق ہو اور بار بار اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتی ہو اور اس وقت کا صدر ر پورٹوں