خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 792
خطبات طاہر جلد ۱۰ 792 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء کے بعد وہ ساری سفارشات میرے سامنے پیش کی جاتی ہیں میں ان کی گہری چھان بین کرتا ہوں کہ کہیں کسی سے کوئی زیادتی نہ ہوگئی ہو یا سقم نہ رہ گیا ہو اور قطع نظر اس کے کہ کس نے کیا دیا ہے ہمیشہ اس بات پر فیصلہ ہوتا ہے کہ کس کو کیا ضرورت ہے اور جماعت کا روپیہ سلسلے کی ضروریات کے لئے کس طرح بہترین رنگ میں خرچ ہو سکتا ہے؟ اس رنگ میں یہ فیصلے ہورہے ہوتے ہیں اور اس سارے نظام کو درہم برہم کرنے کے لئے دو سال سے مسلسل سازشیں چل رہی ہیں اور اس کی مجھے اطلاع ہی کوئی نہیں دی جارہی۔۳ برابر نمائندگی کا حق یعنی علاقائی نمائندگی برابر ملے۔۴۔پھر مالمومشن کے متعلق بحث ہوئی کہ اس مشن پر جتنا خرچ ہونا چاہئے اتنا خرچ نہیں ہورہا یہاں تک کہ بالآخر مجلس عاملہ مالمو نے یہ ریزولیوشن پاس کیا کہ جماعت مالمو نے کوئی رقم مالمو مشن کے لئے جمع کی تھی وہ مالموکو واپس ملنی چاہئے۔باقی امور کی طرف آنے سے پہلے میں اس کا قضیہ تو چکا جاؤں۔مالمومشن جب خریدا گیا ہے تو مالمو کی جماعت نے ایک لاکھ 4 ہزار ۸۵۰ کروز چندہ پیش کیا تھا۔نام بنام سب کی فہرست میں نے منگوالی ہے اور دیکھ لیا ہے۔بعض ان میں سے ایسے ہیں جن کے متعلق ابھی بھی میرا دل یقین نہیں کر سکتا کہ تقویٰ کی کوئی بھی کمی ہوگی کیونکہ دیر سے میں جانتا ہوں لیکن عقل کی کمی کے متعلق کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔اگر عقل کی اتنی کمی ہو جائے کہ عملاً نتیجہ تقویٰ کی کمی پر منتج ہو تو انسان بالکل بے اختیار ہو جاتا ہے اور ایسے شخص کو بھی لازم زیر تعزیرلانا پڑتا ہے۔۳لا کھ ۶۵ ہزار میں یہ مشن خریدا گیا تھا جس کے اوپر مرمتوں وغیرہ پر مزید اخراجات بھی ہوتے رہے۔اس میں سے ایک لاکھ 4 ہزار ۸۵۰ اس جماعت کے افراد نے دیا تھا اور آج اتنے سال کے بعد یہ مطالبہ ہے کہ جو ہم نے اس مشن میں چندہ دیا تھا ہمیں واپس کیا جائے۔میں نے عام دستور سے ہٹ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کی ایک ایک پائی ہر اس شخص کو واپس کی جائے جس نے یہ چندہ دیا تھا اور یہ فیصلہ کہ آئندہ کبھی ان لوگوں سے چندہ وصول کرنا ہے کہ نہیں ، یہ بعد میں کیا جائے گا مشن جاری رہے نہ رہے اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن اس مشن میں کوئی ناپاک آنہ بھی داخل نہیں ہوگا جس کے متعلق خدا کے حضور پیش کرنے کا ادعا کر کے بعد میں کوئی مطالبہ کرے کہ یہ ہمیں واپس کیا جائے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تو اپنے غلاموں کی