خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 791

خطبات طاہر جلد ۱۰ 791 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء اور اس کی سنجیدگی کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔اب میں آپ کے سامنے متفرق امور جو بعد میں اکٹھے کئے گئے ہیں۔لمبی بحث و تمحیص کے بعد کہ یہ بھی بتاؤ، وہ بھی بتاؤ قریباً دو ہفتے کی محنت کے بعد ان کے مطالبات کا آخری خلاصہ یہ نکلتا ہے۔ا۔ایک یاد نمائندے نیشنل عاملہ میں ہوں جو نیشنل مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کر کے مالمو کی ترقی اور مسائل اور مالی امور پر بحث کر سکیں۔۲ مجلس عاملہ مالمو میں نیشنل مجلس عاملہ کی تشکیل پر بحث ہوئی۔تمام اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ جماعت سویڈن کی مجلس عاملہ تشکیل دی جائے۔یعنی مجلس عاملہ موجود ہے۔وہ ان کے نزدیک مجلس عاملہ ہی نہیں ہے کیونکہ جس طرح یہ چاہتے ہیں اس طرح تشکیل نہیں ہوئی۔کہتے ہیں آئندہ نیشنل مجلس عاملہ تشکیل دی جائے جس میں تعداد کے اعتبار سے نمائندگی ہوتا کہ گوٹن برگ اور مالمو کی برابر نمائندگی ہو سکے گویا دنیا کے ہر ملک میں یہ فتنہ کا دروازہ کھل جائے کہ ہر مرکزی مجلس عاملہ جس کا تقر مجلس شوری کی سفارش پر خلیفہ وقت کی منظوری سے ہوتا ہے اس میں ایک نئی بحث یہ اٹھے کہ فلاں فلاں ریجن کے اتنے آدمی ہوں۔فلاں فلاں ریجن کے اتنے آدمی ہوں اور بعض ملک اتنے بڑے بڑے ہیں جن کے اوپر یہ اصول عملاً اطلاق پا ہی نہیں سکتا یعنی امریکہ میں لاس انجلیز اور سان فرانسسکو اور ڈ ٹیرائیٹ وغیرہ سب کی مجلس عاملہ مرکز یہ میں متناسب نمائندگی رکھی جائے تو نہ وہ مجلس کبھی اکٹھی ہونہ کبھی جماعت کے مسائل حل ہوسکیں اور یہ صرف اتنی بات نہیں ہے۔ان لوگوں کی عقل میں یہ بات نہیں پڑ رہی کہ یہ مذہبی جماعت ہے کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، کوئی علاقائی جماعت نہیں ہے کہ جہاں سندھ اور پنجاب کے سوال اٹھ کھڑے ہوں یہ ایسا خوفناک فتنہ نظام جماعت میں داخل کرنے والی بات ہے جو صرف مالی نظام کو نہیں بلکہ جماعت کے عام روزمرہ کے کام کے ڈھانچے کو تباہ کرنے والا ہے یہاں تو تقویٰ پر بحث چلتی ہے جتنے بجٹ بنتے ہیں اس میں کبھی کسی نے اس نیت سے نہیں سوچا کہ میں کہاں سے آیا ہوں مجلس شوریٰ کے سب ممبر ہوتے ہیں۔جہاں جہاں مشن ہیں وہاں ان کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہاں وہ ابتدائی بجٹ تجویز کریں اور اسی طرح مالمو کے بجٹ بھی بنے تھے۔وہ تجویز مجلس شوریٰ میں پیش ہوتی ہے۔مجلس شوری غور کے بعد سفارشات کرتی ہے نہ کہ فیصلے۔ان سفارشات پر مرکز میں غور ہوتا ہے۔پھر اس