خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد ۱۰ 746 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء احترام جماعت میں پیدا کرنا بڑا ضروری ہے کیونکہ اللہ کے فضل کے ساتھ دنیا میں سب سے زیادہ قابل اعتما دطوعی مالی نظام جماعت احمدیہ کا نظام ہے۔یہ جو لوگ ایک آواز پر لاکھوں کروڑوں فدا کرتے ہیں اس کا ان کے دل کے اخلاص سے بھی تعلق ہے اور اس یقین سے بھی تعلق ہے کہ اس راہ میں ہم جو ایک ایک پیسہ دیتے ہیں اس پر وہ خدا کی طرف سے امین مقرر ہیں۔انہیں کوئی بھی گارنٹی نہیں ہوتی اور یہی وہ روح ہے جس کی حفاظت کرنا بے حد ضروری ہے اسی لئے مالی نظام میں امیر کو کم اختیارات تفویض کئے گئے ہیں کیونکہ امیر کا ان باتوں میں ملوث نہ ہونا خود اس کے احترام اور تقدس کے لئے ضروری ہے لیکن امراء بعض دفعہ اس وجہ سے کہ ان کو بہت احترام دیا جاتا ہے، ان کے متعلق بار بار کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارے او پر خلیفہ وقت کی طرف سے نگران مقرر ہیں ان کی اطاعت ہی نہ کرو، ادب کرو، احترام کرو، پیار کا تعلق رکھو۔اس وجہ سے بعض سادہ لوح لوگ سمجھتے ہیں کہ امیر اگر نظام جماعت کی حدوں سے بھی گزر رہا ہو اور ان اختیارات کو بھی اپنے ہاتھ میں لے رہا ہو جو اس کو دیئے نہیں گئے تو اس بارہ میں خاموشی اس کا ادب ہے ، خاموشی اختیار کرنا ہی اس کی اطاعت کی روح ہے، یہ بالکل غلط ہے اور نہایت لغو بات ہے عقل سے اور تقویٰ سے اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ تقویٰ کا تقاضا ہے کہ بالا ہستی کی اطاعت کی خاطر ماتحت ہستی کی اطاعت کی جاتی ہے۔تقویٰ کا پہلا سبق قرآن کریم نے ہمیں اس رنگ میں دیا تھا کہ خدا کی اطاعت کی خاطر ساری مخلوق کو آدم کے سامنے جھکنا ہوگا اور وہ شیطان جس نے کہا کہ میں بہتر ہوں اس نے اس بہت ہی بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ اطاعت صرف خدا کی ہے اور خدا کی اطاعت کے نیچے جس صاحب کو امیر بنایا گیا اس کی اطاعت عملاً خدا کی اطاعت ہے اور اس سے روگردانی سرکشی ہے۔پس بالا افسر کی اطاعت ہر جگہ ہر فیصلے کے وقت فیصلہ کن امر ہے۔اسی سے روشنی حاصل کرنی چاہئے۔اگر امیر کسی موقعہ پر اپنے بالا افسر سے باغیانہ رویہ اختیار کرتا ہے اس کی اطاعت سے باہر نکلتا ہے تو و ہیں جماعت اس کی اطاعت سے باہر نکل جائے گی۔اس کی وفا امیر سے نہیں ہے بلکہ امیر سے بالا افسر سے ہے۔اس کی وفا خلیفہ سے نہیں ہے بلکہ خلیفہ سے بالا افسر نبی سے اور خدا سے ہے تو ان معنوں میں کسی جگہ بھی کوئی صاحب امرڈ کٹیرہ نہیں بن سکتا اور ہر ایک کی اطاعت خدا کی خاطر جاتی ہے۔اسی لئے بیعت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں معروف امر میں آپ کی اطاعت کروں گا۔