خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 745 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 745

خطبات طاہر جلد ۱۰ 745 خطبه جمعه ۱۳ رستمبر ۱۹۹۱ء میں اس نظام کا ادب جا گزیں کر سکتے ہیں۔بہر حال اس سلسلہ میں میں بتانا چاہتا ہوں کہ مجلس عاملہ کے اور امیر کے اختیارات میں فرق ہے اور ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اس کے بعد جہاں موقعہ ملے گا اس سلسلے میں بعض دوسری ضروری باتیں بھی بیان کروں گا جن کا فتنوں کے احتمالات سے تعلق ہے۔امیر کو روزمرہ کے جماعتی کاموں کو چلانے کے مکمل اختیارات ہیں اور یہ انتظامی اختیارات ہیں مجلس عاملہ کو انتظامی اختیارات بحیثیت مجلس عاملہ کوئی نہیں ہیں۔یہ تمام اختیارات یا امیر کو ہیں یا سیکرٹریان مجلس عاملہ کو ہیں جو اپنے اپنے شعبہ میں انتظامی اختیارات رکھتے ہیں۔مجلس عاملہ کی حیثیت ایک تو یہ ہے کہ ان سب پر مشتمل ہے لیکن اجتماعی حیثیت سے وہ منتظمہ نہیں ہے بلکہ مشیر ہے۔آپس میں مل کر بیٹھ کر غور کرنے کے لئے ایک مجلس ہے لیکن بعض باتوں میں ان کو ایسے اختیارات ہیں جو امیر کو نہیں ہیں مثلاً اموال سے متعلق مجلس عاملہ کی مرضی کے بغیر امیر خود جماعت کے سامنے مجلس کے سامنے کوئی بجٹ پیش نہیں کر سکتا۔یہ مجلس عاملہ کا حق ہے کہ بجٹ پر غور کرے اور اس کے مالہ وما علیہ، (Pros and cons) اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے ایک ایسا بجٹ بنائے جسے وہ شوریٰ میں پیش کرے گی۔امیر اپنے طور پر یہ بجٹ نہیں بنا سکتا۔مالی معاملات میں امیر کے اختیارات یہاں ختم ہو جاتے ہیں۔اگلی بات یہ ہے کہ مجلس عاملہ کے مشوروں کے بعد ملک کی مجلس شوریٰ جو بجٹ منظور کرتی ہے اسے آخری فیصلہ قرار دینے سے پہلے مرکز سے اس کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے کسی مجلس شوری کا فیصلہ آخری فیصلہ نہیں بنتا جب تک مرکز سلسلہ سے اس کی منظوری حاصل نہ ہو جائے۔جب منظوری حاصل ہو جاتی ہے تو طبعا امیر کے اختیارات اس معاملے میں بالکل کالعدم ہو جاتے ہیں کیونکہ امیر اپنے افسر بالا کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتا۔مجلس شوری کے جو فیصلے خلیفہ وقت سے منظور شدہ ہوں یا وکیل اعلیٰ کی طرف سے منظور شدہ ہوں ان میں امیر خود پابند ہے اس لئے یہ خیال کر لینا کہ امیر کو گویا ڈکٹیٹر شپ کے اختیارات ہیں بالکل غلط اور بودی بات ہے۔جب امیر شوری کے منظور شدہ فیصلوں کا پابند ہو جاتا ہے اور منظور شدہ بجٹ کا پابند ہوجاتا ہے تو اس کو ہرگز یہ حق نہیں ہے کہ منظور شدہ بجٹ سے باہر جا کر خرچ کرے اور بہت سی جگہ ایسی غلطیاں ہوتی ہیں اور ہورہی ہیں۔بجٹ کا