خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 742
خطبات طاہر جلد ۱۰ 742 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء کی نیتوں کے فتور کا خطرہ بھی ہے۔بعض لوگ اس طرز عمل سے امیر کو اپنے ہاتھوں میں ڈالنا چاہتے ہیں اور اگر سادہ لوح امیر ہو تو وہ ضرور ان کے ہاتھوں میں کھیلنے لگ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت بڑا فتنہ پیدا ہوتا ہے۔پھر یہ بات دوسرا گروہ کرتا ہے ان کے دل میں رفتہ رفتہ یہ احساس پیدا ہونے لگ جاتا ہے کہ یہاں پارٹی ہے اور گویا امیر ایک پارٹی کا خود نگران ہے۔ایک پارٹی کے سپر دامیر ہور ہے ہیں۔جرمنی والے خطبہ میں میں نے بیان کیا تھا کہ امیر کوئی پارٹی نہیں ہے وہ ایک ہی پارٹی یعنی خدا کی پارٹی کا نمائندہ ہے لیکن وہ اس صورتحال کو پیش نظر رکھ کر بیان کیا تھا جو میرے سامنے تھی۔بعض دفعہ اس کے برعکس ممکن ہے۔جب بھی امیر ایسے خوشامدیوں کی باتوں کے نتیجہ میں تقویٰ کی بات کرنے کی بجائے ان کو اپنا ساتھی سمجھنے لگ جاتا ہے اور ان پر اس وجہ سے انحصار کرنے لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کی تائید کرتے ہیں وہیں اس کی پارٹی بدل گئی یعنی اس کو تو ایسا خدا کی پارٹی کا ہونا چاہئے تھا کہ خلافت اس کی پشت پناہی پر ہوتی لیکن وہ عملاً اس اعلیٰ برکت سے محروم رہ جاتا ہے۔یہ وہ خطرہ ہے جس کو مشورہ کے وقت صرف امیر ہی کو نہیں دوسروں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔جب بھی ایک شخص اس وجہ سے تائید کرے کہ گویا وہ آپ کا ساتھی ہے تو اس ذہین آدمی کے لئے اس کو معلوم کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ایسے شخص کا احترام دل میں کرنا چاہئے نہ کہ بڑھنا چاہئے اور اس کی بر وقت سرزنش کے نتیجہ میں اس کی بھی اصلاح ہو سکتی ہے اور جو اس مجلس کے باقی ممبران ہیں ان کے دل میں بھی یہ بات یقین کے ساتھ گڑھ سکتی ہے کہ یہ شخص کسی کا نہیں ہے صرف خدا کا ہے، سچی بات کا ہے اور کسی گروہ کی تائید اس لئے نہیں کرتا کہ وہ گروہ اس کی تائید کرتا ہے۔پس ہر بات میں اگر تقویٰ پیش نظر ہے تو کسی دوسرے جھگڑے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ایک دفعہ یہاں عقل کے متعلق ایک غیر مسلم نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ کے نزدیک عقل کی سب سے بڑی تعریف کیا ہے تو میں نے اس کو کہا کہ تم سمجھ تو نہیں سکو گے لیکن میں سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ تقویٰ سے زیادہ کوئی عقل نہیں ہو سکتی۔تقویٰ اور عقل دراصل ایک ہی چیز کے دونام ہیں۔ہر شخص کی اپنی عقل ہے، اس عقل میں تو وہ براہ راست اپنی کوشش سے ترقی نہیں کر سکتا لیکن اگر تقویٰ پر قائم ہو جائے تو اس کو ایک ایسا نور ملتا ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے نور سے دیکھنے لگ