خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 741 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 741

خطبات طاہر جلد ۱۰ 741 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء ہے تو اس کی تائید کرنا امانت میں خیانت کرنا ہے۔بہت بڑا گناہ بن جاتا ہے اور یہ وہ گناہ ہے جس میں عام طور پر لوگ ملوث ہو جاتے ہیں۔مختلف جماعتی خدمات میں مختلف قسم کی مجالس میں بیٹھنے کا موقعہ ملا ہے اور میر اوسیع تجربہ ہے کہ اچھے بھلے نیک متقی لوگ اخلاص کے ساتھ وقف کر نیوالے وہ بھی لاعلمی یا لاشعوری حالت میں ان باتوں میں ملوث ہونے لگ جاتے ہیں۔بعض دفعہ ایک بات مشورے کے لئے آتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جس میں ہلکا سا اشارہ بھی ہوتا ہے آپس میں باتیں کرتے یا کسی اور کے خلاف اس کی بے وقوفی پر ہنسی اڑاتے یا اس کے مشورے کے غلط ہونے کے متعلق اشاروں میں بتاتے ہیں کہ دیکھو جی اس نے ایسی بات کر دی تھی۔پس وہ ملکی سی ادا ایسی خطرناک ادا ہے جو ان کے ایمان کو کھا جاتی ہے اور کم سے کم اس موقعہ پر تو ان کے تقویٰ کو کھا جاتی ہے۔جب مشورہ ہورہا ہو تو کچھ لوگ اپنی عقل کے مطابق بے وقوفی والی بات بھی کر سکتے ہیں لیکن جب دوسرے کچھ لوگ ان کی طرف حقارت سے دیکھیں اور یہ گویا کہ باتیں کریں کہ ہم جانتے ہیں کیا ہے۔اس بے وقوف کو کیا پتہ یا اس نے تو ایسی ہی باتیں کرنی تھیں تو اسی وقت امانت ان کے ہاتھ سے جاتی رہتی ہے اور یہ خائن کی حیثیت سے مجلس میں بیٹھتے ہیں۔تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ مجلس میں جیسا کہ میں نے بیان کیا، مجلس عاملہ ہو یا کوئی اور مشورے کی مجلس ہو ہر ایک کو یہ حق ملنا چاہئے کہ وہ تقویٰ کے ساتھ اپنی بات کرے اور کسی کو یہ حق نہیں ملنا چاہئے کہ وہ اس کی بات کو تحقیر سے دیکھے ہاں اختلاف کی نظر سے دیکھنا ہر گز گناہ نہیں ہے۔اس سلسلہ میں ایک اور بات جو میرے دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ بعض دفعہ امیر کی اطاعت اور امیر کے ادب کا یہ غلط مطلب سمجھا جاتا ہے کہ امیر کی ہر بات کی ضرور تائید کرنی ہے۔اس کے نتیجہ میں بھی بعض دفعہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور گروہ بندی ہوتی ہے چونکہ مجھے بہت سے ایسے معاملات میں تفصیل سے جائزہ لینا پڑتا ہے اس لئے جو باتیں میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں یہ حقائق پر مبنی باتیں ہیں کوئی خیالی باتیں نہیں۔ایک ایسی مجلس عاملہ میرے علم میں ہے جس میں کچھ ممبران نے یہ پیشہ بنایا ہوا تھا کہ امیر کی ہر بات کی تائید کریں اور اس رنگ میں کریں گے کہ گویا یہی امیر کے دوست ہیں اور باقی دشمن ہیں۔اس میں دو قسم کے خطرات ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر ان کی نیتیں صاف بھی ہوں تو امیر یہ سمجھنے لگے گا کہ یہی میرے دوست ہیں اور باقی میرے دشمن ہیں اور دوسرا ان