خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 728
خطبات طاہر جلد ۱۰ 728 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء اور ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ بعد میں ان کے ہاتھ شل ہو گئے اور وہ اٹھ نہیں سکتے تھے۔اور بھی بہت سے عالم اسلام کے پہلے دور میں جبکہ تقویٰ کا معیار بہت بلند تھا ایسے واقعات نظر آتے ہیں کہ ایک شخص عہدے سے ڈرتے ہوئے تو بہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس عہدے کے لائق نہیں ہوں میرے سپرد نہ کرو اور بادشاہ وقت زبر دستی سزادے کر ، بعضوں کو قید کیا گیا ، بعضوں پر کوڑے برسائے گئے بعضوں کو اور سزائیں دی گئیں ، اور حکماً ان کو مجبور کیا جاتا رہا کہ تم یہ عہدہ قبول کرو۔کہاں یہ نظام اسلام جہاں عہدے سے خوف پیدا ہوتا ہے اور دل ڈرتے ہیں کہ میں ان ذمہ داریوں کو ادا کرسکوں گا کہ نہیں ، کہاں ان عہدوں کو ڈکٹیٹر شپ قرار دے دینا اور یہ سمجھنا کہ یہ بھی دنیا کے مناصب ہیں جن میں سے ایک منصب پر یہ شخص فائز ہوگیا ہے جو مجھے پسند نہیں۔یہ باتیں تقویٰ کی روح سے خالی ہیں اور ان کو نظام جماعت میں اب کسی طرح بھی مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ایک دوہوں اور اس وقت پکڑا جائے تو بہت بہتر ہے بجائے اس کے کہ یہ عام بیماریاں بن جائیں۔اس سلسلے میں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ خلیفہ وقت کبھی بھی کسی امیر کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت پر کسی قسم کا ظلم کرے۔اگر ایک فرد کی شکایت بھی پہنچے تو اس کی پوری تحقیق کی جاتی ہے اور امیر کو اس بات کے لئے جواب دہ بنایا جاتا ہے اور ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں ایک شخص نے جب مجھ تک شکایت پہنچائی کہ فلاں عہد یدار کی طرف سے خواہ وہ امیر تھا یا وکیل تھا یا ناظر تھا مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے تو بلا تاخیر میں نے ایسی تحقیق کروائی ہے جو کلیۂ آزاد تحقیق تھی اور بعض لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ شاید اس تحقیق میں بھی کسی نے اثر ڈال دیا ہوگا ایسے لوگوں کو بعض دفعہ میں یہاں تک کہتا رہا ہوں کہ تم اپنے نمائندے مقرر کرو جو ساتھ بیٹھیں اور پھر اپنے نمائندوں سے سن کر مجھے بتاؤ کہ کیا نا جائز حرکت ہوئی ہے۔جس عہدے دار کے سر پر ایسا زبردست نظام موجود ہو کہ وہ ذرا بھی راہ راست سے ہٹے تو اس کی نگرانی کی جائے ، اس کے متعلق تحقیقاتی کمیشن بیٹھیں اور اگر وہ غلطی کرتا ہے تو اس کی پاداش میں اس کو عہدے سے معطل یا معزول کرنا پڑے تو پھر ایسے شخص کو ڈکٹیٹر کہہ دینا بڑا ظلم ہے۔نظام جماعت میں تو کوئی ڈکٹیٹر ہو ہی نہیں سکتا۔خدمت کرنے والے لوگ ہیں۔ایک بے چارہ سیکرٹری مال ہے سوائے اس کے اس کو مشغلہ ہی کوئی نہیں کہ وہ خدا کی خاطر پیسے اکٹھا کرتا پھرے۔دنیا جب اپنے پیسے اکٹھے کرنے