خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 727 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 727

خطبات طاہر جلد ۱۰ 727 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء اگر امیر کسی پر بالا رادہ یا بلا ارادہ ظلم کرتا ہے تو یا درکھیئے ، ہر ایسا شخص اگر وہ نظام جماعت اور خدا کی خاطر صبر سے کام لیتا ہے تو خدا کے فرشتے اور خدا کا سارا نظام اس کی تائید میں کھڑا ہوگا اور ضرور اس کے لئے راحت کے سامان فرمائے گا۔دنیا میں بھی اس کو جزا دے گا اور آخرت میں بھی اس کو جزا دے گا لیکن اگر وہ صبر سے کام نہیں لیتا تو اس کے لئے دو طریق ہیں۔اول:۔یہ کہ جیسا کہ نظام مقرر ہے وہ بالا افسروں تک شکایت پہنچائے ، بجائے اس کے کہ غیر متعلقہ لوگوں سے باتیں کرے۔جب وہ افسر بالا تک شکایت پہنچاتا ہے اور وہ نہیں سنتا تو پھر بالآخر بات خلیفہ تک پہنچتی ہے اور میں نے تو یہاں تک اعلان کر رکھا ہے کہ سارے درمیان کے واسطے بیشک چھوڑ دو صرف ایک واسطہ اختیار کرو جس کے خلاف شکایت کرنی ہے، تقویٰ سے کام لو اور اس کی معرفت کرو تا کہ شکایت غیبت نہ بن جائے۔چغلخوری نہ ہواور اس کو علم ہو کہ میرے متعلق کیا کہا جارہا ہے۔لیکن اگر تمہیں شک ہے کہ وہ اس چٹھی کو دبا کر بیٹھ جائے گا تو اس کی نقل مجھے بھجوا دو اور پھر مجھ پر چھوڑو تو اول تو پہلی بات یہ کہ جس شخص کے اوپر ایک اور نگران بیٹھا ہو اور اس کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ کرے بلکہ انصاف پر قائم رہے تو ایسے شخص کو ڈکٹیٹر کا طعنہ دیا ہی نہیں جاسکتا۔ڈکٹیٹر تو مطلق العنان اور خود مختار ہستی کو کہتے ہیں جو چاہے کرے ہر قانون اس کے تابع ہوتا ہے۔ایک امیر بے چارہ ڈکٹیٹر کیسے ہو سکتا ہے۔اس کے اوپر نظارتیں ہیں، وکالتیں ہیں، اور اس کے اوپر خلیفتہ المسیح کی نگرانی ہے۔جب شکایت کے یہ سارے رستے کھلے ہیں تو ان رستوں کو چھوڑ کر عوام الناس کی عدالت میں پہنچنا یہ روحانیت کے خلاف ہے اور نظام جماعت میں کسی قیمت پر برداشت نہیں ہوسکتا کیونکہ اس طرح فتنے پیدا ہوتے ہیں۔یہ جماعت الہی جماعت ہے کوئی احراری جماعت تو نہیں۔احراری جماعت اور الہی جماعت میں زمین و آسمان کے فرق ہوتے ہیں احراری جماعتوں میں بد تمیزی بدخلقی ، بدگوئی، ہر قسم کی پارٹی بازی یعنی سیاسی جماعتوں کی بدترین قسم ہے۔الہی جماعت ایک پاکیزہ جماعت ہے۔اس کے سارے معاملات خدا کی خاطر ہوتے ہیں۔عہدے ذمہ داریاں ہیں نہ کہ اپنی برتری کو ثابت کرنے کے لئے کوئی شخص انہیں استعمال کرتا ہے۔عہد یداری تو ایک بہت ہی بڑا بوجھ ہے۔جن لوگوں نے الہی جماعتوں میں مناصب کی حقیقت کو سمجھا ان میں ایسے بھی پیدا ہوئے جیسا کہ حضرت امام مالک جن کو عہدہ قبول نہ کرنے کی سزا کے طور پر کوڑے مارے گئے