خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد ۱۰ 711 خطبه جمعه ۳۰ راگست ۱۹۹۱ء محفوظ ہے اس کے بعد ادب کا یہ حال تھا کہ دو باتوں میں کھلی کھلی بغاوت اور ایک موقعہ پر کہا میں جانتا ہوں کہ آپ عورتوں کے تابع آچکے ہیں۔صدر لجنہ کے حق میں بات کر رہے ہیں۔عورتوں کے نیچے لگ گئے ہیں اور پھر کہا میں جانتا ہوں یہ ایک ٹولہ جو آپ کے ساتھ لگا ہوا ہے اور پھر مجھے یہ لکھا اپنی عقل اور سمجھ کا نمونہ دکھانے کے لئے کہ دیکھیں کہ میں تو اس حد تک گیا کہ میں نے امیر صاحب کو ایک موقعہ پر علیحدگی میں یہ سمجھایا کہ آپ اور میں الگ الگ نہیں ہونے چاہئیں۔ورنہ اگر آپ نے جب اس طرح ہی گویا کہ مجھے الگ رکھا اور میرے مشوروں پر عمل نہ کیا تو جو لوگ آپ کے مشیروں اور آپ سے ناراض ہیں وہ میرے پاس آیا کریں گے اور اسی طرح جماعت میں دو دھڑے بن جائیں گے گویا خودمخالفانہ دھڑے کی سرداری قبول کر لی یہ نہیں کہا کہ امیر صاحب! آپ مطمئن رہیں کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی اگر آپ کے خلاف بولتا ہوا میرے پاس آئے گا تو میں اس کو کہوں گا کہ تو دھتکارا ہوا شیطان ہے یہاں سے رخصت ہو۔امیر کے خلاف میں کسی قسم کی بکواس برداشت نہیں کروں گا۔امیر کو خلیفہ وقت نے مقرر کیا ہے اور حضرت رسول اللہ ﷺ کی نیابت میں مقرر کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ من عصا امیری فقد عصانی فقد عصى الله ( بخاری کتاب الجہاد والسیر حدیث نمبر : ۲۷۳۷) جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے فقـد عصنی اللہ میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی ہے۔ساری عمر یہ باتیں رہتے ہوئے مربیان کو یہ بھی نہیں پتہ لگا آخری عمر میں جا کر کہ اطاعت ہوتی کیا ہے اور اخلاص کس چیز کا نام ہے چنانچہ مسلسل میری ہدایت کے باوجود میرے یہ لکھنے کے باوجود کہ میں اس شخص کا ادب کرتا ہوں حالانکہ میں نے امیر مقر رکیا ہے میرے ماتحت ہے آپ بھی ادب کریں۔ادب کا یہ طریق اختیار کیا اور ان کے بعض ساتھیوں نے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا جو نہایت نا پسندیدہ تھا۔اب میں تفصیل سے وہ نام نہیں لینا چاہتا لیکن یہ بد بو تھی جو مجھے بڑی دیر سے آرہی تھی۔میں چاہتا تھا کہ سمجھ جائیں جیسا کہ میں نے کہا کہ میں دعا کر تا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ٹھوکروں سے بچائے۔اچھے اچھے کام کرنے والے بھی تھے لیکن جہاں جماعت کے مفاد کا سوال پیدا ہوتا ہو وہاں میں کسی ذاتی تعلق کو خاطر میں نہیں لاسکتا۔کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے ہر ایک مجھے نہایت ہی اخلاص اور محبت کے خط لکھتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان میں سے بعض یہ لکھتے