خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 690
خطبات طاہر جلد ۱۰ 690 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۹۱ء فرما دیا۔اصل مراد یہ ہے کہ بھائی سے کسی بھائی کو تکلیف نہ پہنچے۔اگر انسان غائبانہ تکلیف اس طرح پہنچانا چاہے کہ اس کے خلاف کسی کے کان بھرے تو یہ بات اس تک پہنچے نہ پہنچے یہ غیبت بن جائے گی۔اگر اس نیت سے نہ بھی کی ہو اور بات کسی کے خلاف کہی ہو تو جس نے سنا ہے اس کے پاس یہ امانت ہے اس کا فرض ہے کہ اس میں خیانت نہ کرے۔یا تو اس کو ٹوک دے اور سمجھائے کہ تم نے ایک شخص کے متعلق غائبانہ بات کر دی، تمہارے لئے مناسب نہیں تھا یا پھر اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بات آگے پہنچانے سے احتراز کرے کیونکہ جب اس نے بات سنی اور خاموشی اختیار کی تو وہ لازماً اس کا موید بن گیا۔اس صورت میں یہ غیبت ان معنوں میں نہ رہی جن معنوں میں میں ایک حصے کی تعریف کر چکا ہوں۔یعنی ایک شخص نے ایک ایسے شخص سے بات کی کسی شخص غائب کے متعلق جس کی اس برائی میں دونوں متفق ہیں تو کیا نقصان ہوا اس شخص کو جب دونوں متفق ہیں تو بات کہنے والے نے کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے کسی کو غائبانہ نقصان پہنچا لیکن جب وہ سننے والا وہاں اتفاق کرنے کے بعد پھر تکلیف اٹھا کر دوسرے شخص تک پہنچتا ہے اور اسے وہ بات بتا تا ہے تو اس کی مثال وہی ہے جیسا کہ آنحضرت ہو نے واضح فرمایا جیسے تیر کسی کی طرف چلایا گیا ہو، لگا نہ ہو، اس کے سامنے قدموں میں جا پڑے اور کوئی شخص اٹھا کر اس کے سینے میں گھونپ دے۔وہ زیادہ ظالمانہ فعل ہے کیونکہ پہلے شخص نے تو کم سے کم کچھ احتیاط کی تھی کہ اس کو تکلیف نہ پہنچے لیکن دوسرے شخص نے سفا کی سے کام لیا ہے اس لئے غیبت کی اس تعریف کو پیش نظر رکھنا چاہئے لیکن بعض دفعہ یہ معاملہ الجھ جاتا ہے جبکہ جماعتی معاملات ہوں اور نظام جماعت کے متعلق باتیں ہوں اور کوئی شخص کوئی بات کہیں کرتا ہے تو کیا اس بات کو متعلقہ عہدیدار تک نہ پہنچانا یہ مناسب ہے یا پہنچادینا غیبت ہوگا؟ یہ ایک ایسا مضمون ہے جس پر مزید روشنی ڈالنی ضروری ہے۔پہلے حصے کے متعلق میں جتنی روشنی ڈال چکا ہوں ، جن لوگوں سے اس واقعہ کا تعلق ہے وہ بھی خطبہ سنیں گے اور وہ سمجھ چکے ہوں گے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن ایک دوسرا حصہ ہے جس کو مزید وضاحت سے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔میرے پاس بسا اوقات کئی دوست تشریف لاتے ہیں اور وہ بعض لوگوں کے خلاف بات کرتے ہیں عموماً میں ان کو روک دیتا ہوں۔اگر ایسی بیوی آئی ہے جو خاوند سے ناراض ہے، خاوند آیا