خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 689
خطبات طاہر جلد ۱۰ 689 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۹۱ء یہ ہے کہ اس موقع پر جو بات ہوئی اس کا تعلق اس شخص کی عزت کو یکطرفہ نقصان پہنچانے سے نہیں تھا۔نہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ نیت تھی، نہ حضرت عائشہ کا اس سے کوئی ایسا تعلق تھا کہ اس کا مقام حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دل میں گرنے کے نتیجے میں کوئی نقصان پہنچے۔ایک پہلو اس حدیث کا ایسا ہے جو لوگوں کے زیر بحث نہیں آیا اور میرے نزدیک وہ سب سے اہم پہلو ہے۔وہ یہ ہے کہ بعض دفعہ انسان ایک ایسی بات کسی شخص کے متعلق کسی کو بتاتا ہے کہ وہ بات حقیقت پر بھی بنی ہوتی ہے اس کی نیت نقصان پہنچانے کی نہیں ہوتی بلکہ مخاطب کو نقصان سے بچانے کی نیت ہوتی ہے۔اس کو متنبہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک شخص ہے جس میں یہ بات ہے اس لئے اس سے بچو۔اگر وہ حقیقت پر مبنی ہو اور اس نیت سے ہو اور مزید براں اگر ساتھ یہ نیت بھی شامل ہو کہ وہ شخص اگر اس بات کو سنے گا تو مانے گا تو نہیں لیکن اس کو تکلیف پہنچے گی تو اس تجزئیے میں یہ ہرگز غیبت نہیں بلکہ نہایت ہی پر حکمت فعل ہے۔وہ جو حدیث زیر بحث ہے اس کے متعلق میں سمجھتا ہوں یہی اس کی سچی تشریح ہے کہ بسا اوقات جیسا کہ ہم عام روز مرہ معاملات میں دیکھتے ہیں ایک شخص کے متعلق بعض باتیں ہیں جو ایک مجلس کے محدود افراد جانتے ہیں اور ان کے علم میں کوئی اضافہ بھی نہیں ہو رہا ہوتا وہ اس شخص کے متعلق بات چلتی ہے جب وہ اچانک اندر داخل ہوتا ہے تو سب خاموش ہو جاتے ہیں۔کیوں خاموش ہو جاتے ہیں؟ اس لئے نہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے، اس لئے نہیں کہ وہ اس کے علم کے بغیر اس کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے بلکہ اس لئے خاموش ہو جاتے ہیں کہ اس کو تکلیف نہ پہنچے ، اس کو اذیت نہ ہو اور غیبت کے مضمون میں اذیت نہ پہنچانے کا مضمون داخل ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو مزید اس طرح واضح فرمایا کہ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو کسی کی غیبت کرتا ہے جس سے وہ غیبت کرتا ہے اگر وہ بات اپنے تک رکھے اور آگے نہ پہنچائے تو اس غیبت کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے کوئی کسی کی طرف تیر پھینکے اور وہ تیر اس کو نہ لگے اور لگنے سے پہلے پہلے اس کے قدموں میں گر جائے۔فرمایا وہ شخص جو غیبت کو سن کر آگے اس شخص تک پہنچاتا ہے جس کے متعلق بات کی گئی تھی اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے وہ پاس کھڑا ہو جب وہ تیر قدموں میں گرا ہو۔قدموں سے اُٹھا کر اس کے سینے میں گھونپ دے والی) تو دیکھیں کتنی عظیم الشان پر حکمت تعریف ہے غیبت کی اور غیبت سے مناہی کا فلسفہ بیان