خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 591

خطبات طاہر جلد ۱۰ 591 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء کر لیں۔مرے ہوئے بزرگوں کے لئے بھی کر لیں لیکن وہ دعا ئیں بھی تب زیادہ مقبول ہوں گی اگر اپنے لئے بھی اسی جان کے ساتھ دعائیں کی جائیں۔اس لئے اپنے لئے دعا ئیں یہ بھی فیصلہ کر دیتی ہیں کہ مستقبل کے لئے مقبول ہوں گی یا نہیں اور ماضی کے لئے مقبول ہوں گی کہ نہیں۔انبیاء کی نیکیوں کی دعائیں کیوں ان کی اولاد کے حق میں مانی جاتی ہیں۔عام انسان کے لئے کیوں نہیں مانی جاتیں۔یہ بھی تو ایک مسئلہ ہے۔پس مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعاؤں پر جب آپ غور کرتے ہیں تو بہت سی نیک لوگوں کی دعاؤں کی حکمتیں بھی سمجھ آنے لگ جاتی ہیں۔اسی لئے یہ مضمون ضروری ہے اور اسی لئے میں آپ کے سامنے اسے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔جو مغضوب لوگوں کی دعائیں ہیں یا سج لوگوں کی دعائیں ہیں وہ جب نیکی کی دعائیں بھی کرتے ہیں تو ان کے اندر ایک بھی ہو جاتی ہے اور اس کھی کی وجہ سے وہ دعا ئیں رد ہو جاتی ہیں اور غیروں کے لئے خواہ بھی نہ بھی ہو چونکہ اپنے لئے کبھی ہوتی ہے اس لئے دوسروں کی دعاؤں میں بھی کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔قیامت کے دن ایک سوال ہے پوری دعا نہیں بنتی اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ جب کسی کو اندھا بنا کر اٹھائے گا یعنی دوسری دنیا میں نور سے عاری کر دے گا۔بصیرت سے عاری فرما دے گا تو وہ یہ کہے گا۔قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِى أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ( طه (۱۲۲) کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھا دیا۔میں تو دعا میں دیکھا کرتا تھا۔قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ ايتنا فنسيتها (ط : ۱۲۷) اللہ فرمائے گا کہ اسی لئے یعنی دلیل یہ ہے کہ تیرے پاس میرے نشانات آیا کرتے تھے یا آتے رہے اور تو نے انہیں نظر انداز کر دیا فنسيتها کا معنی یہاں بھلا دیتا‘ ان معنوں میں نہیں کہ ایک چیز یا تھی اور بھلا دی گئی نسیت کا معنی ہے : انہیں اس طرح نظر انداز کر دیا کہ گویاوہ بھول چکے تھے۔ان کو فراموش کر دیا۔ان کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسى اور آج تجھے اسی طرح بھلا دیا جائے گا۔دیکھتے ہوئے نہ دیکھنے کا مضمون ہے جو بیان ہوا ہے فَنَسِيتَهَا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تو نے کوئی یاد چیز کو بھلا دیا بلکہ مراد یہ ہے کہ تیرے سامنے تھی اور تو نے دیکھا ہی نہیں۔نظر انداز کر دیا تو جو چیز اپنی مرضی سے تو نے نہیں دیکھی آج تجھے نظر ہی نہیں آئے گی اور آج تو بھی اسی طرح خدا کے سامنے بھلا دیا جائے گا اور تیری ضرورتوں کی پروانہیں کی جائے گی۔یہ بہت ہی دردناک سزا ہے اور یہ سزا ہم دنیا میں اپنے لئے بناتے چلے جاتے ہیں۔جب خدا کی طرف سے کوئی