خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد ۱۰ 48 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء پہنچائے جارہے ہیں ان پر بے انتہا خرچ آ رہا ہے۔ارب ہا ارب ڈالرز ، آپ تصور ہی نہیں کر سکتے یوں سمجھیں کہ دولتوں کے پہاڑ خرچ ہورہے ہیں اور ایک بات آپ نے سنی تھی کہ معاہدہ ہو چکا ہے کہ اس میں سے نصف سعودی عرب ادا کرے گا۔دوسرے نصف کی کوئی بات نہیں کی گئی۔یہ نہیں بتایا گیا کہ دوسرا نصف کس کس مسلمان ملک کے حصے میں آئے گا کس کے ذمے، کس کے کھاتے میں ڈالا جائے گا اور میں آپ کو یقین سے کہ سکتا ہوں کہ دوسرے نصف کا بڑا حصہ کو یت اور بحرین اور اسی طرح شیخڈم کی دوسری ریاستیں ادا کریں گی۔اگر پورا نہیں تو لازماً ایک بڑا حصہ ان سے وصول کیا جائے گا۔پس اس جنگ کا آخری واضح نقشہ یوں ابھرتا ہے کہ کسی ایسی طاقت کو فائدہ پہنچ رہا ہے جو خود جنگ میں شریک ہی نہیں ہے اور وہ اسرائیل ہے۔آج کے ایک انٹرویو میں ایک مغربی مفکر یا سیاستدان نے کھل کر اس بات کو تسلیم کیا کہ ہم جو کہتے تھے کہ عراق کو تباہ کرو۔اب تمہیں سمجھ آگئی ہے ناں کہ کیوں کہتے تھے۔یہ سکڈ میزائلز جو پوری طرح چل نہیں سکے اگر یہ اسی طرح رہ جاتے اور یہ جنگ نہ ہوتی تو آخر کار ان میزائلز کو زیادہ ہولناک طاقت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جانا تھا تو جہاں تک مقاصد کا تعلق ہے ،مقصد کے لحاظ سے اس نہایت ہی خوفناک جنگ کا فائدہ صرف اور صرف اسرئیل کو ہے۔جہاں تک اقتصادی فوائد کا تعلق ہے یہ تمام تر فائدہ مغربی ملکوں کو ہے وجہ یہ ہے کہ جو بھی ہتھیار یہاں استعمال کئے جارہے ہیں روس سے صلح کے نتیجے میں ان ہتھیاروں کی قیمت مٹی ہو چکی تھی کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہی تھی اور جو زیادہ تر بل ہے وہ ان ہتھیاروں کی قیمت کے طور پر ہے جہاں تک ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات ہیں وہ تو سارے کلیہ ان کے مفت تیل پر ہیں اور اگر صرف نصف بل بھی بنے تب بھی ان کی بچت کا جو مارجن (Margin) ہے یعنی جتنے فی صد بچت ان کو ہوگی وہ بھی غیر معمولی ہے پس اس جنگ کا اقتصادی فائدہ کلیہ ان مغربی طاقتوں کو حاصل ہے جو اپنے فرسودہ ہتھیار یا نئے ہتھیار ایک ایسی جنگ میں استعمال کر رہے ہیں جس جنگ کی قیمت وہ کسی اور فریق سے وصول کر رہے ہیں۔پس جنگ کی محنت کرنے والے مغربی لوگ ، جنگ میں چند نقصانات اٹھانے والے یعنی چند جانی نقصانات اٹھانے والے مغربی لوگ اور اس کے نتیجے میں بے شمار اقتصادی فائدہ حاصل کرنے والے بھی مغربی لوگ۔عالم اسلام کو اس کے شدید نقصانات ہیں اگر عراق کلیۂ تباہ ہو جائے تو یہی نقصان ایک بہت بڑا نقصان ہے جس کے بعد بیسیوں سال تک مسلمان روئیں گے لیکن اس کو نظر انداز بھی کر دو تو اس