خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 47

خطبات طاہر جلد ۱۰ 47 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء ان کو امین بنایا گیا ہے۔یہ کرنے کی بجائے یہ صرف اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب کلیہ عراق کی طاقت ہمیشہ ہمیش کے لئے صفحہ ہستی سے مٹا دی جائے اور پھر فاخرانہ انداز میں یہ واپس اپنے چھوٹے سے ملک کویت میں داخل ہوں۔اور پھر مغربی طاقتیں دوبارہ آکر ان کے ملک کو از سرنو تعمیر کریں، پھر آباد کریں جب کہ عملاً عراق صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہو۔اب سوال یہ ہے کہ اس ساری جدوجہد کا، اس خوفناک بین الاقوامی صورت حال کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔آج صبح کے انٹرویو میں کسی نے اسرائیل کے نائب وزیر دفاع سے پوچھا کہ دیکھیں اگر آپ نے کوئی رد عمل دکھایا یعنی ان سکڈ میزائل کے نتیجہ میں جو آپ کے بعض شہروں میں گرے لیکن زیادہ نقصان نہیں ہوا اگر آپ نے کوئی رد عمل دکھایا تو اس کے نتیجے میں عالم اسلام کا جو ہمارے ساتھ اتحاد ہے اس کو شدید نقصان پہنچے گا تو اس نے کہا: تم کیا باتیں کرتے ہو کیسی بے عقلی کا سوال ہے۔مجھے تو اس سوال میں معمولی عقل کی بات بھی دکھائی نہیں دیتی۔اس نے کہا کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ سعودی عرب کا احسان ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہے اور انگلستان کے ساتھ ہے اور یورپین ممالک کے ساتھ ہے۔کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ کویت کا احسان ہے یا مصر کا احسان ہے۔یہ تو سارے تمہارے ممنون احسان ہیں۔ان کو ایک ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں ہوگی کہ اسرئیل عراق کو تباہ کرے یا کوئی اور تباہ کرے یہ ممالک ہیں جو تمہارے غلام ہیں تمہارے ممنون احسان ہیں تم پر کامل انحصار رکھنے والے ممالک ہیں ان کو توفیق ہی نہیں ہے کہ تم سے ناراض ہوسکیں۔یہ جو جواب ہے اس میں بڑی گہری حقیقت ہے۔اس سے کوئی انکار نہیں کہ اس وقت یہ صورت حال ہو چکی ہے لیکن ایک بات سے مجھے شدید اختلاف ہے کہ اس نے کہا کہ تم نے ان پر احسان کیا ہے۔یہ بالکل جھوٹ ہے۔مغرب نے نہ عالم اسلام پر کوئی احسان کیا ہے اس لڑائی میں حصہ لے کر نہ ان مسلمان ممالک پر احسان کیا ہے جن کے نام پر یہ لڑائی لڑی جارہی ہے بلکہ ہمیشہ کی طرح اپنے ان مفادات کو حاصل کرنے کی ایک بہت ہی خوفناک کوشش ہے جو اس جدید تاریخ میں ہمیشہ سے اسی طرح کارفرمارہی ہے۔کوششیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں کہ جب بھی دنیا میں کہیں بدامنی ہو اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ فائدہ ترقی یافتہ قوموں کو پہنچے۔پس اس صورت حال کے پیش نظر اگر آپ مزید تجزیہ کریں تو آپ کو میری بات کی خوب سمجھ آجائے گی کہ فائدے کس کے ہیں۔یہ جو بے شمار جنگی ہتھیار اور جدید ترین جنگی ہتھیار میدان جنگ تک