خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 512

خطبات طاہر جلد ۱۰ 512 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء چلے جاتے ہیں۔ہماری دعا تو ابھی تک قبول نہیں ہوئی لیکن بغیر اداؤں کے کیسے قبول ہوگی۔پیار تو اداؤں پر آتا ہے کلمات پر نہیں آیا کرتا۔ایک ہی بات ایک عام آدمی کہتا ہے بعض دفعہ اس پر غصہ آجاتا ہے ایک ایسا شخص جس سے پیار پیدا ہو جائے جب وہ بات کہتا ہے تو اس پر پیار آتا ہے۔پیار آنا ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے اور قبولیت دعا کا پیار سے تعلق ہے۔جس طرح شاعر نے کہا ہے کہ :۔ان کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے اب دونوں کا آپس کا تعلق اس قسم کا ہے کہ ایک شخص کو نفرت ہے ایک کو محبت ہے۔جس کو نفرت ہے کہنے والا کہتا ہے ہم اس سے پیار کرتے ہیں تو اسے ہم پر غصہ آجاتا ہے اور ہمارا یہ حال ہے کہ جب اسے غصہ آتا ہے تو ہمیں پیار آ جاتا ہے۔تو یہاں دعاؤں کے معاملہ میں محض لفظوں کی بات نہیں ہے کہ کسی نبی کے الفاظ آپ دہرانے لگ جائیں۔قرآن کریم نے ان کیفیات کا ذکر فرمایا ہے۔ان حالات کا ذکر فرمایا ہے۔ان نبیوں کے اخلاق کا ذکر فرمایا ہے۔ان نبیوں کے اپنے ساتھ تعلقات کا ذکر فرمایا ہے۔وہ ایک پس منظر بنا کر پھر وہ دعا سکھائی گئی ہے۔اس پس منظر کے پیدا کرنے کے لئے اگر انسان کوشش کرے اگر چہ ویسانہ بھی بن سکے لیکن کچھ تو ہو پھر دعا کر کے دیکھے کبھی خطا نہیں جائے گی۔میرا تو ایمان ہے کہ وہ دعا جو انبیاء نے کی اور خطا نہ گئی اگر اسی در داور اسی جذبے کے ساتھ کی جائے تو کبھی خطا نہیں جائے گی۔ہم نے تو دیکھا ہے کہ وہ اچھے ڈاکٹر جو نسخے بیان کرتے ہیں اور ساتھ اس کے متعلق تفصیل سے بتاتے ہیں کہ یہ یہ باتیں ہوں تو نسخہ کارگر ہوگا۔ان کا نسخہ واقعی کارگر ہوتا ہے میں ہومیو پیتھک کا شوق رکھتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے بعض ڈاکٹر جو نسخہ بتاتے ہیں شاذ ہی کبھی کامیاب ہوتا لیکن بعض جو تفصیل سے بتاتے ہیں یہ یہ باتیں ہوں تو کامیاب ہوگا وہ ضرور کامیاب ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ سے بہتر کون ڈاکٹر ہوسکتا ہے جو انسان کی ہر اصلاح کے لئے ہمیں قرآن کریم جیسا نسخہ عطا کرتا ہے۔آپ غور سے دیکھیں تو قرآن کریم کی ہر دعا سے پہلے اس کا پس منظر بیان ہوا ہے۔وہ ساری ادا ئیں تفصیل سے زیر بحث لائی گئی ہیں جن پر نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول فرمایا۔اب ایک دلچسپ دعا ایسی ہے جو بندے نہیں کر رہے بلکہ فرشتے کرتے ہیں۔فرمایا