خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 511

خطبات طاہر جلد ۱۰ 511 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء ہوں اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ہر ضرورت کو پورا کر دیا۔گزشتہ خطبہ میں میں نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔اب یہ بھی ایک ملتی جلتی دعا کی ادا ہے کہ اظہار درد تو ہے لیکن طلب کوئی نہیں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ ہاں ہم نے سن لیا ہے۔تو بہت دکھ میں ہے۔بہت تو نے صبر کیا۔اب تو یہ یہ کام کر تو نے صبر کیا کے لفظ یہاں تو نہیں آئے لیکن اس دعا کے بعد خدا کے سلوک کا ذکر چلتے ہوئے اس بات پر بات ختم ہوئی ہے۔اِنَّا وَجَدْنَهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّةَ أَوَّابٌ (ص: ۴۵) کہ ہم نے اسے یعنی حضرت ایوب کو بہت ہی صبر کرنے والا پایا، کیا ہی اچھا بندہ تھا۔الْعَبْدُ ہو تو ایسا ہو۔نِعْمَ الْعَبْدُ کا محاورہ اس رنگ کا مضمون ہے جسے ہم اردو میں کہتے ہیں کیا خوب انسان تھا۔انسان ہو تو ایسا ہو۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے بہت ہیں مگر ایسا بندہ ہو تب مزے کی بات ہے جیسے ایوب تھا۔بہت ہی صبر کرنے والا تھا۔اِنَّةَ أَوَّاب اور کثرت سے میری طرف جھکنے والا تھا۔پس دعا کی قبولیت کے پیچھے یہ مزاج بھی تو ہیں جنہیں اپنا نا ہوگا۔محض درد کا اظہار کافی نہیں ہے۔خصوصیت کے ساتھ درد کا اظہار اگر ایسے بندہ کی طرف سے ہو جو صابر ہوتو دل پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور عام انسانی معاملات میں میں نے تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر درد کا اظہار کرتے ہیں وہ مانگیں بھی تو ان کو دینے پر دل نہیں کرتا۔جس طرح بعض بندے جن کو مانگنے کی عادت نہیں ہے وہ خاموش رہتے ہیں اور صبر پر صبر کرتے چلے جاتے ہیں۔جب ان کا صبر ٹوٹتا ہے تو بے اختیار ان کے لئے دل پھٹنے لگتا ہے اور انسان کہتا ہے کہ بہت ہی تکلیف میں ہوگا۔جب اس نے یوں ہاتھ پھیلایا ہے۔تو ایک تو اس دعا سے پہلے حضرت ایوب کا صبر ہے جس نے ایک پس منظر بنایا اور پھر آواب کا مطلب ہے ہر بات میں خدا کی طرف دوڑتا تھا۔غیر کی طرف نہیں جاتا تھا۔جب بھی کوئی ضرورت پڑتی تھی۔جب بھی کوئی تکلیف ہوتی تھی اگر دوڑتا تھا تو خدا کی طرف دوڑتا تھا۔یہ دو عادتیں ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو اس شان کے ساتھ قبول کیا ہے۔پس جب بھی آپ قرآنی دعائیں مانگا کریں تو ان اداؤں کے ساتھ مانگا کریں جن اداؤں کے ساتھ پھر دعا ئیں مقبول ہوتی ہیں۔بعض لوگ مجھے کہتے ہیں کہ جی ہمیں آپ دعا لکھ دیجئے جو ہم کرتے رہیں۔بعض کہتے ہیں ہم یہ ورد کرتے چلے جارہے ہیں۔گھنٹوں مصلے پر بیٹھ کر یہ ورد کرتے