خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 495
خطبات طاہر جلد ۱۰ 495 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء غالب قوم تھی اور قوم کے وقار کا سوال تھا۔یہ بحث نہیں تھی کہ غلطی سے قتل ہوا ہے یا عمد ہوا ہے۔یہ بحث تھی کہ ایک غالب قوم کے فرد پر اگر ایک مغلوب قوم کا فرد جرأت کرنے لگے تو اس سے ان کا جو سارا رعب تھا وہ جاتا رہے گا اس غرض سے ان لوگوں نے آپس میں مشورے کئے اور حضرت موسی کے قتل کا فیصلہ کیا۔اس وقت جب آپ ڈرتے ہوئے چھپتے ہوئے ملک چھوڑ رہے تھے کیونکہ ان میں سے ہی ایک ہمدرد انسان نے جو آپ کی سچائی کا قائل تھا اور آپ کی عزت کرتا تھا اس نے آپ کو اطلاع دی کہ میں وہاں سے آ رہا ہوں جہاں تمہارے قتل کے مشورے ہور ہے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ ابھی یہاں سے نکل جاؤ۔چنانچہ اس کے مشورے پر جب آپ روانہ ہوئے ہیں تو یہ دعا کی۔رب نجنی مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ اے میرے رب مجھے ظالموں کی قوم سے نجات بخش۔اس میں بھی حکمت کی بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں اپنے اس گناہ سے تو بہ نہیں کی گئی کیونکہ پہلے ہی خدا بخش چکا تھا۔جس کو خدا بخش دے اس پر ظالم قوم ہی حملے کی جرات کر سکتی ہے تو فرمایا تو نے مجھے بخش دیا ہے مگر دنیا کے ظالم تو مجھے نہیں بخش رہے اس لئے ان ظالموں سے بھی اب مجھے نجات بخش۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نجات بخشی اور اس سے اگلی دعا اسی تسلسل کی ہے۔اس سے آگے تین آیات بعد یعنی سورۃ القصص کی بائیسویں آیت میں یہ دعا ہے۔رَبِّ نَجْنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ اور آیت پچیسویں میں یہ دعا ہے رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير (القصص: ۲۵) اے میرے رب ! تو میری جھولی میں جو بھی خیرات ڈال دے میں اس کا فقیر ہوں۔یہ بہت دلچسپ موقعہ ہے۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ہجرت کر کے مدین کی قوم کی طرف گئے جہاں حضرت شعیب کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت خدا تعالیٰ کے اس قوم کے لئے نبی تھے اور دونوں ہم عصر ہیں۔حضرت شعیب کی دو بیٹیاں تھیں ان کا بیٹا کوئی نہیں تھا۔حضرت شعیب کی بیٹیاں قوم کی پنگھٹ پر پانی بھرنے کے لئے آئی ہوئی تھیں اور چونکہ بہت سے مرد تھے اس لئے وہ شرما کر ایک طرف کھڑی رہیں اور انتظار کرتی رہیں کہ کب ان کی باری آئے تو وہ اپنے گھڑے بھریں۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ایک دیوار یا درخت کے سائے تلے بیٹھے دیکھ رہے تھے۔آپ چونکہ بہت مضبوط ، قوی هیکل انسان تھے اور دل میں گہری ہمدردی بھی تھی۔آپ اٹھے اور ان سے ان کے برتن لئے اور مردوں کو ہٹاتے ہوئے جا کر ان کا پانی بھرا اور گھڑے ان کے